] وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رَضِي الله عَنهُ
Urdu
امام بیہقی نے اسے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ کی سند سے روایت کیا ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ
Before you continue, kindly recite Darood Sharif.
10 narrations
] وَرَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ فِي شُعَبِ الْإِيمَانِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَة رَضِي الله عَنهُ
Urdu
امام بیہقی نے اسے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ کی سند سے روایت کیا ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمُ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ»
Urdu
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نوجوانوں کی جماعت ! تم میں سے جو شخص جماع اور نکاح کے اخراجات کی استطاعت رکھتا ہو تو وہ شادی کرے ، کیونکہ وہ نگاہوں کو نیچا رکھنے اور عفت و عصمت کی حفاظت کے لیے زیادہ مؤثر ہے ، اور جو شخص (عقدِ نکاح کی) استطاعت نہ رکھے تو وہ روزہ رکھے ، کیونکہ یہ اس کی شہوت کم کرنے کا باعث ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: رَدَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَان ابْن مَظْعُونٍ التَّبَتُّلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لَاخْتَصَيْنَا
Urdu
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان بن مظعون ؓ کی ترکِ نکاح کی سوچ کو رد فرمایا ، اور اگر آپ انہیں اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظْفَرْ بِذَات الدّين تربت يداك
Urdu
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’ عورت سے چار چیزوں ، اس کے مال ، اس کے حسب و نسب ، اس کے حسن و جمال اور اس کے دین کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے ، تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں تم دین دار کے ساتھ نکاح کر کے کامیابی حاصل کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الدُّنْيَا كُلُّهَا مَتَاعٌ وَخَيْرُ مَتَاعِ الدُّنْيَا الْمَرْأَة الصَّالِحَة» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu
عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دنیا مکمل طور پر متاع ہے ، اور بہترین متاعِ دنیا نیک بیوی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ نسَاء ركبن الْإِبِل صَالح نسَاء قُرَيْش أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ»
Urdu
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’ اونٹوں پر سوار ہونے والی (عرب) عورتوں میں سے ، قریش کی صالحہ خواتین بہتر ہیں ۔ وہ اپنے چھوٹے بچوں پر نہایت شفیق اور شوہر کے مال کی انتہائی محافظ ہوتی ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تَرَكْتُ بَعْدِي فِتْنَةً أَضَرَّ عَلَى الرِّجَالِ من النِّسَاء»
Urdu
اسامہ بن زید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’ میں اپنے بعد مردوں کے لیے عورتوں سے زیادہ مضر کوئی فتنہ خیال نہیں کرتا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ الدُّنْيَا حُلْوَةٌ خَضِرَةٌ وَإِنَّ اللَّهَ مُسْتَخْلِفُكُمْ فِيهَا فَيَنْظُرُ كَيْفَ تَعْمَلُونَ فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَتْ فِي النِّسَاء» . رَوَاهُ مُسلم
Urdu
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’ دنیا شیریں اور سرسبز و شاداب ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ تمہیں اس میں خلیفہ بنانے والا ہے ، وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو ، تم دنیا اور عورتوں کے فتنے سے بچو ، کیونکہ بنی اسرائیل کا پہلا فتنہ عورتوں کی وجہ سے رونما ہوا ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الشُّؤْمُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالْفَرَسِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ. وَفِي رِوَايَةٍ: الشُّؤْمُ فِي ثَلَاثَة: فِي الْمَرْأَة والمسكن وَالدَّابَّة
Urdu
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا
’’ عورت ، گھر اور گھوڑے میں نحوست (یعنی بے برکتی) ہے ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ تین چیزوں میں نحوست ہے عورت ، گھر اور جانور ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ جَابِرٍ: قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ فَلَمَّا قَفَلْنَا كُنَّا قَرِيبًا مِنَ الْمَدِينَةِ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي حَدِيثُ عَهْدٍ بعرس قَالَ: «تَزَوَّجْتَ؟» قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: «أَبِكْرٌ أَمْ ثَيِّبٌ؟» قُلْتُ: بَلْ ثَيِّبٌ قَالَ: «فَهَلَّا بِكْرًا تلاعبها وتلاعبك» . فَلَمَّا قدمنَا لِنَدْخُلَ فَقَالَ: «أَمْهِلُوا حَتَّى نَدْخُلَ لَيْلًا أَيْ عشَاء لكَي تمتشط الشعثة وتستحد المغيبة»
Urdu
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے ، جب ہم واپس آئے اور مدینہ کے قریب پہنچے تو میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے نئی نئی شادی کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے شادی کر لی ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کنواری سے یا بیوہ سے ؟‘‘ میں نے عرض کیا : جی ! بیوہ سے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے کنواری سے شادی کیوں نہ کی ، تم اس سے کھیلتے اور وہ تم سے کھیلتی ۔‘‘ جب ہم (مدینہ کے) قریب پہنچ گئے اور اس میں داخل ہونے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ٹھہر جاؤ حتی کہ ہم رات یعنی عشاء کے وقت داخل ہوں گے تاکہ منتشر بالوں والی کنگھی کر لے اور جس کا خاوند غائب رہا ہو وہ زیر ناف بال صاف کر لے ۔‘‘ متفق علیہ ۔