Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#2260sahih-bukhari · 38

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، قَالَ أَخْبَرَنِي جَدِّي أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ الْخَازِنُ الأَمِينُ الَّذِي يُؤَدِّي مَا أُمِرَ بِهِ طَيِّبَةً نَفْسُهُ أَحَدُ الْمُتَصَدِّقَيْنِ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Musa Al-Ash`ari رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "The honest treasurer who gives willingly what he is ordered to give, is one of the two charitable persons, (the second being the owner).

Urdu

ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ابوبردہ یزید بن عبداللہ نے کہا کہ میرے دادا ، ابوبردہ عامر نے مجھے خبر دی اور انہیں ان کے باپ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، امانت دار خزانچی جو اس کو حکم دیا جائے ، اس کے مطابق دل کی فراخی کے ساتھ ( صدقہ ادا کر دے ) وہ بھی ایک صدقہ کرنے والوں ہی میں سے ہے ۔

#2261sahih-bukhari · 38

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَمَعِي رَجُلاَنِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، فَقُلْتُ مَا عَلِمْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ‏.‏ فَقَالَ ‏ "‏ لَنْ أَوْ لاَ نَسْتَعْمِلُ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :

I went to the Prophet (ﷺ) with two men from Ash`ari tribe. I said (to the Prophet), "I do not know that they want employment." The Prophet (ﷺ) said, "No, we do not appoint for our jobs anybody who demands it earnestly."

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے قرۃ بن خالد نے کہا کہ مجھ سے حمید بن ہلال نے بیان کیا ، ان سے ابوبردہ نے بیان کیا اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ

میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ۔ میرے ساتھ ( میرے قبیلہ ) اشعر کے دو مرد اور بھی تھے ۔ میں نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ دونوں صاحبان حاکم بننے کے طلب گار ہیں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص حاکم بننے کا خود خواہشمند ہو ، اسے ہم ہرگز حاکم نہیں بنائیں گے ۔ ( یہاں راوی کو شک ہے کہ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لفظ «لن» یا لفظ «لا» استعمال فرمایا ۔

#2262sahih-bukhari · 38

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلاَّ رَعَى الْغَنَمَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَصْحَابُهُ وَأَنْتَ فَقَالَ ‏"‏ نَعَمْ كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لأَهْلِ مَكَّةَ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Allah did not send any prophet but shepherded sheep." His companions asked him, "Did you do the same?" The Prophet (ﷺ) replied, "Yes, I used to shepherd the sheep of the people of Mecca for some Qirats."

Urdu

ہم سے احمد بن محمد مکی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے ان کے دادا سعید بن عمرو نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا نبی نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ علیہم نے پوچھا کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں ؟ فرمایا کہ ہاں ! کبھی میں بھی مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کی تنخواہ پر چرایا کرتا تھا ۔

#2263sahih-bukhari · 38

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ وَاسْتَأْجَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلاً مِنْ بَنِي الدِّيلِ ثُمَّ مِنْ بَنِي عَبْدِ بْنِ عَدِيٍّ هَادِيًا خِرِّيتًا ـ الْخِرِّيتُ الْمَاهِرُ بِالْهِدَايَةِ ـ قَدْ غَمَسَ يَمِينَ حِلْفٍ فِي آلِ الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، وَهْوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَأَمِنَاهُ فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا، وَوَعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلاَثِ لَيَالٍ، فَأَتَاهُمَا بِرَاحِلَتَيْهِمَا، صَبِيحَةَ لَيَالٍ ثَلاَثٍ، فَارْتَحَلاَ، وَانْطَلَقَ مَعَهُمَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، وَالدَّلِيلُ الدِّيلِيُّ فَأَخَذَ بِهِمْ أَسْفَلَ مَكَّةَ وَهْوَ طَرِيقُ السَّاحِلِ‏.‏

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ employed a (pagan) man from the tribe of Bani Ad-Dail and the tribe of Bani 'Abu bin `Adi as a guide. He was an expert guide and he broke the oath contract which he had to abide by with the tribe of Al-`Asi bin Wail and he was on the religion of Quraish pagans. The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ had confidence in him and gave him their riding camels and told him to bring them to the Cave of Thaur after three days. So, he brought them their two riding camels after three days and both of them (The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr) set out accompanied by 'Amir bin Fuhaira and the Dili guide who guided them below Mecca along the road leading to the sea-shore.

Urdu

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں معمر نے ، انہیں زہری نے ، انہیں عروہ بن زبیر نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ( ہجرت کرتے وقت ) بنودیل کے ایک مرد کو نوکر رکھا جو بنو عبد بن عدی کے خاندان سے تھا ۔ اور اسے بطور ماہر راہبر مزدوری پر رکھا تھا ( حدیث کے لفظ ) «خريت» کے معنی راہبری میں ماہر کے ہیں ۔ اس نے اپنا ہاتھ پانی وغیرہ میں ڈبو کر عاص بن وائل کے خاندان سے عہد کیا تھا اور وہ کفار قریش ہی کے دین پر تھا ۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس پر بھروسہ تھا ۔ اسی لیے اپنی سواریاں انہوں نے اسے دے دیں اور غار ثور پر تین رات کے بعد اس سے ملنے کی تاکید کی تھی ۔ وہ شخص تین راتوں کے گزرتے ہی صبح کو دونوں حضرات کی سواریاں لے کر وہاں حاضر ہو گیا ۔ اس کے بعد یہ حضرات وہاں سے عامر بن فہیرہ اور اس دیلی راہبر کو ساتھ لے کر چلے ۔ یہ شخص ساحل کے کنارے سے آپ کو لے کر چلا تھا ۔

#2264sahih-bukhari · 38

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَتْ وَاسْتَأْجَرَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَبُو بَكْرٍ رَجُلاً مِنْ بَنِي الدِّيلِ، هَادِيًا خِرِّيتًا وَهْوَ عَلَى دِينِ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، فَدَفَعَا إِلَيْهِ رَاحِلَتَيْهِمَا، وَوَاعَدَاهُ غَارَ ثَوْرٍ بَعْدَ ثَلاَثِ لَيَالٍ بِرَاحِلَتَيْهِمَا صُبْحَ ثَلاَثٍ‏.‏

Narrated Urwa bin Zubair:

Aisha (the wife of the Prophet) Allah's Messenger (ﷺ) and Abu Bakr hired a man from the tribe of Bani-Ad-Dil as an expert guide who was a pagan (follower of the religion of the pagans of Quraish). The Prophet (ﷺ) and Abu Bakr gave him their two riding camels and took a promise from him to bring their riding camels in the morning of the third day to the Cave of Thaur.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عقیل نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی

اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنو دیل کے ایک ماہر راہبر سے مزدوری طے کر لی تھی ۔ وہ شخص کفار قریش کے دین پر تھا ۔ ان دونوں حضرات نے اپنی دونوں اونٹنیاں اس کے حوالے کر دی تھیں اور کہہ دیا تھا کہ تین راتوں کے بعد صبح سویرے ہی سواروں کے ساتھ غار ثور پر آ جائے ۔

#6sahih-bukhari · 38

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَكَانَ مِنْ أَوْثَقِ أَعْمَالِي فِي نَفْسِي، فَكَانَ لِي أَجِيرٌ، فَقَاتَلَ إِنْسَانًا، فَعَضَّ أَحَدُهُمَا إِصْبَعَ صَاحِبِهِ، فَانْتَزَعَ إِصْبَعَهُ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ فَسَقَطَتْ، فَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَهْدَرَ ثَنِيَّتَهُ وَقَالَ ‏ "‏ أَفَيَدَعُ إِصْبَعَهُ فِي فِيكَ تَقْضَمُهَا ـ قَالَ أَحْسِبُهُ قَالَ ـ كَمَا يَقْضَمُ الْفَحْلُ ‏"‏‏. قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ جَدِّهِ، بِمِثْلِ هَذِهِ الصِّفَةِ أَنَّ رَجُلاً، عَضَّ يَدَ رَجُلٍ، فَأَنْدَرَ ثَنِيَّتَهُ، فَأَهْدَرَهَا أَبُو بَكْرٍ رضى الله عنه‏.‏

Narrated Ya`la bin Umaiya رضی اللہ عنہ :

I fought in Jaish-al-Usra (Ghazwa of Tabuk) along with the Prophet (ﷺ) and in my opinion that was the best of my deeds. Then I had an employee, who quarrel led with someone and one of the them bit and cut the other's finger and caused his own tooth to fall out. He then went to the Prophet (with a complaint) but the Prophet (ﷺ) canceled the suit and said to the complainant, "Did you expect him to let his finger in your mouth so that you might snap and cut it (as does a stallion camel)?" Narrated Ibn Juraij from `Abdullah bin Abu Mulaika from his grandfather a similar story: A man bit the hand of another man and caused his own tooth to fall out, but Abu Bakr رضی اللہ عنہ judged that he had no right for compensation (for the broken tooth).

Urdu

ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عطا بن ابی رباح نے خبر دی ، انہیں صفوان بن یعلیٰ نے ، ان کو یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے کہا کہ

میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جیش عسرۃ ( غزوۃ تبوک ) میں گیا تھا یہ میرے نزدیک میرا سب سے زیادہ قابل اعتماد نیک عمل تھا ۔ میرے ساتھ ایک مزدور بھی تھا وہ ایک شخص سے جھگڑا اور ان میں سے ایک نے دوسرے مقابل والے کی انگلی چبا ڈالی ۔ دوسرے نے جو اپنا ہاتھ زور سے کھینچا تو اس کے آگے کے دانت بھی ساتھ ہی کھینچے چلے آئے اور گر گئے ۔ اس پر وہ شخص اپنا مقدمہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر پہنچا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دانت ( ٹوٹنے کا ) کوئی قصاص نہیں دلوایا ۔ بلکہ فرمایا کہ کیا وہ انگلی تمہارے منہ میں چبانے کے لیے چھوڑ دیتا ۔ راوی نے کہا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں بھی فرمایا ۔ جس طرح اونٹ چبا لیا کرتا ہے ۔ ابن جریج نے کہا اور مجھ سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے بیان کیا اور ان سے ان کے دادا نے بالکل اسی طرح کا واقعہ بیان کیا کہ ایک شخص نے ایک دوسرے شخص کا ہاتھ کاٹ کھایا ۔ ( دوسرے نے اپنا ہاتھ کھینچا تو ) اس کاٹنے والے کا دانت ٹوٹ گیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کا کوئی قصاص نہیں دلوایا ۔

#2267sahih-bukhari · 38

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، وَغَيْرُهُمَا قَالَ قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدٍ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ حَدَّثَنِي أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فَانْطَلَقَا فَوَجَدَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ ‏"‏‏.‏ قَالَ سَعِيدٌ بِيَدِهِ هَكَذَا، وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَاسْتَقَامَ، قَالَ يَعْلَى حَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدًا قَالَ‏.‏ فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ فَاسْتَقَامَ ‏{‏قَالَ‏}‏ ‏"‏لَوْ شِئْتَ لاَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا ‏"‏‏.‏ قَالَ سَعِيدٌ أَجْرًا نَأْكُلُهُ‏.‏

Narrated Ubai bin Ka`b رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Both of them (Moses and Al-Khadir) proceeded on till they reached a wall which was about to fall." Sa`d said [?? or Sa`id], "(Al-Khadir pointed) with his hands (towards the wall) and then raised his hands and the wall became straightened up." Ya`la said, "I think Sa`id [?? or Sa`d] said, 'He (Khadir) passed his hand over it and it was straightened up." (Moses said to him), "if you had wanted, you could have taken wages for it." Sa`id [?? or Sa`d] said, "Wages with which to buy food . "

Urdu

ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے سعید سے خبر دی ۔ یہ دونوں حضرات ( سعید بن جبیر سے اپنی روایتوں میں ) ایک دوسرے سے کچھ زیادہ روایت کرتے ہیں ۔ ابن جریج نے کہا میں نے یہ حدیث اوروں سے بھی سنی ہے ۔ وہ بھی سعید بن جبیر سے نقل کرتے تھے کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا ، اور ان سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا ، انہوں نے کہا کہ

مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر وہ دونوں ( موسیٰ اور خضر علیہما السلام ) چلے ۔ تو انہیں ایک گاؤں میں ایک دیوار ملی جو گرنے ہی والی تھی ۔ سعید نے کہا خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا اور ہاتھ اٹھایا ، وہ دیوار سیدھی ہو گئی ۔ یعلیٰ نے کہا میرا خیال ہے کہ سعید نے کہا ، خضر علیہ السلام نے دیوار کو اپنے ہاتھ سے چھوا ، اور وہ سیدھی ہو گئی ، تب موسیٰ علیہ السلام بولے کہ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی مزدوری لے سکتے تھے ۔ سعید نے کہا کہ ( حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مراد یہ تھی کہ ) کوئی ایسی چیز مزدوری میں ( آپ کو لینی چاہئیے تھی ) جسے ہم کھا سکتے ( کیونکہ بستی والوں نے ان کو کھانا نہیں کھلایا تھا ) ۔

#2268sahih-bukhari · 38

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ أَهْلِ الْكِتَابَيْنِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أُجَرَاءَ فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ غُدْوَةَ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ، ثُمَّ قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلاَةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ النَّصَارَى ثُمَّ، قَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنَ الْعَصْرِ إِلَى أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ عَلَى قِيرَاطَيْنِ فَأَنْتُمْ هُمْ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى، فَقَالُوا مَا لَنَا أَكْثَرَ عَمَلاً، وَأَقَلَّ عَطَاءً قَالَ هَلْ نَقَصْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ قَالُوا لاَ‏.‏ قَالَ فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "Your example and the example of the people of the two Scriptures (i.e. Jews and Christians) is like the example of a man who employed some laborers and asked them, 'Who will work for me from morning till midday for one Qirat?' The Jews accepted and carried out the work. He then asked, Who will work for me from midday up to the `Asr prayer for one Qirat?' The Christians accepted and fulfilled the work. He then said, 'Who will work for me from the `Asr till sunset for two Qirats?' You, Muslims have accepted the offer. The Jews and the Christians got angry and said, 'Why should we work more and get lesser wages?' (Allah) said, 'Have I withheld part of your right?' They replied in the negative. He said, 'It is My Blessing, I bestow upon whomever I wish .'

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، ان سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ایوب سختیانی نے ، ان سے نافع نے ، ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کئی مزدور کام پر لگائے اور کہا کہ میرا کام ایک قیراط پر صبح سے دوپہر تک کون کرے گا ؟ اس پر یہودیوں نے ( صبح سے دوپہر تک ) اس کا کام کیا ۔ پھر اس نے کہا کہ آدھے دن سے عصر تک ایک قیراط پر میرا کام کون کرے گا ؟ چنانچہ یہ کام پھر نصاری نے کیا ، پھر اس شخص نے کہا کہ عصر کے وقت سے سورج ڈوبنے تک میرا کام دو قیراط پر کون کرے گا ؟ اور تم ( امت محمدیہ ) ہی وہ لوگ ہو ( جن کو یہ درجہ حاصل ہوا ) اس پر یہود و نصاری نے برا مانا ، وہ کہنے لگے کہ کام تو ہم زیادہ کریں اور مزدوری ہمیں کم ملے ، پھر اس شخص نے کہا کہ اچھا یہ بتاؤ کیا تمہارا حق تمہیں پورا نہیں ملا ؟ سب نے کہا کہ ہمیں تو ہمارا پورا حق مل گیا ۔ اس شخص نے کہا کہ پھر یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں زیادہ دوں ۔

#2269sahih-bukhari · 38

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ إِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَالْيَهُودُ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالاً فَقَالَ مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ عَمِلَتِ النَّصَارَى عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ، ثُمَّ أَنْتُمُ الَّذِينَ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلاَةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ، فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ عَمَلاً وَأَقَلُّ عَطَاءً، قَالَ هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ حَقِّكُمْ شَيْئًا قَالُوا لاَ‏.‏ فَقَالَ فَذَلِكَ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Your example and the example of Jews and Christians is like the example of a man who employed some laborers to whom he said, 'Who will work for me up to midday for one Qirat each?' The Jews carried out the work for one Qirat each; and then the Christians carried out the work up to the `Asr prayer for one Qirat each; and now you Muslims are working from the `Asr prayer up to sunset for two Qirats each. The Jews and Christians got angry and said, 'We work more and are paid less.' The employer (Allah) asked them, 'Have I usurped some of your right?' They replied in the negative. He said, 'That is My Blessing, I bestow upon whomever I wish.' "

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، اور ان سے عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہاری اور یہود و نصاریٰ کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص نے چند مزدور کام پر لگائے اور کہا کہ ایک ایک قیراط پر آدھے دن تک میری مزدوری کون کرے گا ؟ پس یہود نے ایک قیراط پر یہ مزدوری کی ۔ پھر نصاریٰ نے بھی ایک قیراط پر کام کیا ۔ پھر تم لوگوں نے عصر سے مغرب تک دو دو قیراط پر کام کیا ۔ اس پر یہود و نصاریٰ غصہ ہو گئے کہ ہم نے تو زیادہ کام کیا اور مزدوری ہم کو کم ملی ۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ کیا میں نے تمہارا حق ذرہ برابر بھی مارا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں ۔ پھر اس شخص نے کہا کہ یہ میرا فضل ہے جسے چاہوں زیادہ دیتا ہوں ۔

#2270sahih-bukhari · 38

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى ثَلاَثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُعْطِهِ أَجْرَهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Allah said, 'I will be an opponent to three types of people on the Day of Resurrection: -1. One who makes a covenant in My Name, but proves treacherous; -2. One who sells a free person and eats his price; and -3. One who employs a laborer and takes full work from him but does not pay him for his lab our.' "

Urdu

ہم سے یوسف بن محمد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن امیہ نے ، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ تین قسم کے لوگ ایسے ہیں کہ جن کا قیامت میں میں خود مدعی بنوں گا ۔ ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام پہ عہد کیا ، اور پھر وعدہ خلافی کی ۔ دوسرا وہ جس نے کسی آزاد آدمی کو بیچ کر اس کی قیمت کھائی اور تیسرا وہ شخص جس نے کسی کو مزدور کیا ، پھر کام تو اس سے پورا لیا ، لیکن اس کی مزدوری نہ دی ۔