Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#2299sahih-bukhari · 41

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَلِيٍّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ أَتَصَدَّقَ بِجِلاَلِ الْبُدْنِ الَّتِي نُحِرَتْ وَبِجُلُودِهَا‏.‏

Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) ordered me to distribute the saddles and skins of the Budn which I had slaughtered.

Urdu

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ابن ابی نجیح نے بیان کی ، ان سے مجاہد نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا کہ ان قربانی کے جانوروں کے جھول اور ان کے چمڑے کو میں خیرات کر دوں جنہیں قربان کیا گیا تھا ۔

#2300sahih-bukhari · 41

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَعْطَاهُ غَنَمًا يَقْسِمُهَا عَلَى صَحَابَتِهِ، فَبَقِيَ عَتُودٌ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏ "ضَحِّ بِهِ أَنْتَ."

Narrated `Uqba bin Amir رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) had given him sheep to distribute among his companions and a male kid was left (after the distribution). When he informed the Prophet (ﷺ) of it, he said (to him), "Offer it as a sacrifice on your behalf."

Urdu

ہم سے عمرو بن خالد نے بیان کیا ، ان سے لیث نے بیان کیا ، ان سے یزید نے ، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ بکریاں ان کے حوالہ کی تھیں تاکہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں ان کو تقسیم کر دیں ۔ ایک بکری کا بچہ باقی رہ گیا ۔ جب اس کا ذکر انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی تو قربانی کر لے ۔

#2301sahih-bukhari · 41

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كِتَابًا بِأَنْ يَحْفَظَنِي فِي صَاغِيَتِي بِمَكَّةَ، وَأَحْفَظَهُ فِي صَاغِيَتِهِ بِالْمَدِينَةِ، فَلَمَّا ذَكَرْتُ الرَّحْمَنَ قَالَ لاَ أَعْرِفُ الرَّحْمَنَ، كَاتِبْنِي بِاسْمِكَ الَّذِي كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ‏.‏ فَكَاتَبْتُهُ عَبْدُ عَمْرٍو فَلَمَّا كَانَ فِي يَوْمِ بَدْرٍ خَرَجْتُ إِلَى جَبَلٍ لأُحْرِزَهُ حِينَ نَامَ النَّاسُ فَأَبْصَرَهُ بِلاَلٌ فَخَرَجَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى مَجْلِسٍ مِنَ الأَنْصَارِ فَقَالَ أُمَيَّةُ بْنُ خَلَفٍ، لاَ نَجَوْتُ إِنْ نَجَا أُمَيَّةُ‏.‏ فَخَرَجَ مَعَهُ فَرِيقٌ مِنَ الأَنْصَارِ فِي آثَارِنَا، فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَلْحَقُونَا خَلَّفْتُ لَهُمُ ابْنَهُ، لأَشْغَلَهُمْ فَقَتَلُوهُ ثُمَّ أَبَوْا حَتَّى يَتْبَعُونَا، وَكَانَ رَجُلاً ثَقِيلاً، فَلَمَّا أَدْرَكُونَا قُلْتُ لَهُ ابْرُكْ‏.‏ فَبَرَكَ، فَأَلْقَيْتُ عَلَيْهِ نَفْسِي لأَمْنَعَهُ، فَتَخَلَّلُوهُ بِالسُّيُوفِ مِنْ تَحْتِي، حَتَّى قَتَلُوهُ، وَأَصَابَ أَحَدُهُمْ رِجْلِي بِسَيْفِهِ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يُرِينَا ذَلِكَ الأَثَرَ فِي ظَهْرِ قَدَمِهِ‏.‏ قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ سَمِعَ يُوسُفُ صَالِحًا وَإِبْرَاهِيمُ أَبَاهُ

Narrated `Abdur-Rahman bin `Auf رضی اللہ عنہ :

I got an agreement written between me and Umaiya bin Khalaf that Umaiya would look after my property (or family) in Mecca and I would look after his in Medina. When I mentioned the word 'Ar64 Rahman' in the documents, Umaiya said, "I do not know 'Ar-Rahman.' Write down to me your name, (with which you called yourself) in the Pre-Islamic Period of Ignorance." So, I wrote my name ' `Abdu `Amr'. On the day (of the battle) of Badr, when all the people went to sleep, I went up the hill to protect him. Bilal(1) saw him (i.e. Umaiya) and went to a gathering of Ansar and said, "(Here is) Umaiya bin Khalaf! Woe to me if he escapes!" So, a group of Ansar went out with Bilal to follow us (`Abdur-Rahman and Umaiya). Being afraid that they would catch us, I left Umaiya's son for them to keep them busy but the Ansar killed the son and insisted on following us. Umaiya was a fat man, and when they approached us, I told him to kneel down, and he knelt, and I laid myself on him to protect him, but the Ansar killed him by passing their swords underneath me, and one of them injured my foot with his sword. (The sub narrator said, " `Abdur-Rahman رضی اللہ عنہ used to show us the trace of the wound on the back of his foot.")

Urdu

ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یوسف بن ماجشون نے بیان کیا ، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ، ان سے ان کے باپ نے ، اور ان سے صالح کے دادا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

میں نے امیہ بن خلف سے یہ معاہدہ اپنے اور اس کے درمیان لکھوایا کہ وہ میرے بال بچوں یا میری جائیداد کی جو مکہ میں ہے ، حفاظت کرے اور میں اس کی جائیداد کی جو مدینہ میں ہے حفاظت کروں ۔ جب میں نے اپنا نام لکھتے وقت رحمان کا ذکر کیا تو اس نے کہا کہ میں رحمن کو کیا جانوں ۔ تم اپنا وہی نام لکھواؤ جو زمانہ جاہلیت میں تھا ۔ چنانچہ میں نے عبد عمرو لکھوایا ۔ بدر کی لڑائی کے موقع پر میں ایک پہاڑ کی طرف گیا تاکہ لوگوں سے آنکھ بچا کر اس کی حفاظت کر سکوں ، لیکن بلال رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا اور فوراً ہی انصار کی ایک مجلس میں آئے ۔ انہوں نے مجلس والوں سے کہا کہ یہ دیکھو امیہ بن خلف ( کافر دشمن اسلام ) ادھر موجود ہے ۔ اگر امیہ کافر بچ نکلا تو میری ناکامی ہو گی ۔ چنانچہ ان کے ساتھ انصار کی ایک جماعت ہمارے پیچھے ہولی ۔ جب مجھے خوف ہوا کہ اب یہ لوگ ہمیں آ لیں گے تو میں نے اس کے لڑکے کو آگے کر دیا تاکہ اس کے ساتھ ( آنے والی جماعت ) مشغول رہے ، لیکن لوگوں نے اسے قتل کر دیا اور پھر بھی وہ ہماری ہی طرف بڑھنے لگے ۔ امیہ بہت بھاری جسم کا تھا ۔ آخر جب جماعت انصار نے ہمیں آ لیا ا تو میں نے اس سے کہا کہ زمین پر لیٹ جا ۔ جب وہ زمین پر لیٹ گیا تو میں نے اپنا جسم اس کے اوپر ڈال دیا ۔ تاکہ لوگوں کو روک سکوں ، لیکن لوگوں نے میرے جسم کے نیچے سے اس کے جسم پر تلوار کی ضربات لگائیں اور اسے قتل کر کے ہی چھوڑا ۔ ایک صحابی نے اپنی تلوار سے میرے پاؤں کو بھی زخمی کر دیا تھا ۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ اس کا نشان اپنے قدم کے اوپر ہمیں دکھایا کرتے تھے ۔

#4sahih-bukhari · 41

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي، هُرَيْرَةَ رضى الله عنهما أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم اسْتَعْمَلَ رَجُلاً عَلَى خَيْبَرَ، فَجَاءَهُمْ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ فَقَالَ ‏"‏ أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا ‏"‏‏.‏ فَقَالَ إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ، وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلاَثَةِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ لاَ تَفْعَلْ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا ‏"‏‏.‏ وَقَالَ فِي الْمِيزَانِ مِثْلَ ذَلِكَ‏.‏

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) employed someone as a governor at Khaibar. When the man came to Medina, he brought with him dates called Janib. The Prophet (ﷺ) asked him, "Are all the dates of Khaibar of this kind?" The man replied, "(No), we exchange two Sa's of bad dates for one Sa of this kind of dates (i.e. Janib), or exchange three Sa's for two." On that, the Prophet (ﷺ) said, "Don't do so, as it is a kind of usury (Riba) but sell the dates of inferior quality for money, and then buy Janib with the money". The Prophet said the same thing about dates sold by weight. (See Hadith No. 506).

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں عبدالمجید بن سہل بن عبدالرحمٰن بن عوف نے ، انہیں سعید بن مسیب نے اور انہیں ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر کا تحصیل دار بنایا ۔ وہ عمدہ قسم کی کھجور لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجوریں اسی قسم کی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس طرح کی ایک صاع کھجور ( اس سے گھٹیا قسم کی ) دو صاع کھجور کے بدل میں اور دو صاع ، تین صاع کے بدلے میں خریدتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ ایسا نہ کر ، البتہ گھٹیا کھجوروں کو پیسوں کے بدلے بیچ کر ان سے اچھی قسم کی کھجور خرید سکتے ہو ۔ اور تولے جانے کی چیزوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم فرمایا ۔

#2304sahih-bukhari · 41

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، سَمِعَ الْمُعْتَمِرَ، أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَتْ لَهُمْ غَنَمٌ تَرْعَى بِسَلْعٍ، فَأَبْصَرَتْ جَارِيَةٌ لَنَا بِشَاةٍ مِنْ غَنَمِنَا مَوْتًا، فَكَسَرَتْ حَجَرًا فَذَبَحَتْهَا بِهِ، فَقَالَ لَهُمْ لاَ تَأْكُلُوا حَتَّى أَسْأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم، أَوْ أُرْسِلَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مَنْ يَسْأَلُهُ‏.‏ وَأَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَاكَ، أَوْ أَرْسَلَ، فَأَمَرَهُ بِأَكْلِهَا‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَيُعْجِبُنِي أَنَّهَا أَمَةٌ، وَأَنَّهَا ذَبَحَتْ‏.‏ تَابَعَهُ عَبْدَةُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ‏.‏

Narrated Ibn Ka`b bin Malik رضی اللہ عنہ from his father:

We had some sheep which used to graze at Sala'. One of our slavegirls saw a sheep dying and she broke a stone and slaughtered the sheep with it. My father said to the people, "Don't eat it till I ask the Prophet about it (or till I send somebody to ask the Prophet)." So, he asked or sent somebody to ask the Prophet, and the Prophet (ﷺ) permitted him to eat it. 'Ubaidullah (a sub-narrator) said, "I admire that girl, for though she was a slave-girl, she dared to slaughter the sheep . " Abdah corroborated him from Obaidullah.

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے معتمر سے سنا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو عبیداللہ نے خبر دی ، انہیں نافع نے ، انہوں نے ابن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ اپنے والد سے بیان کرتے تھے کہ

ان کے پاس بکریوں کا ایک ریوڑ تھا ۔ جو سلع پہاڑی پر چرنے جاتا تھا ( انہوں نے بیان کیا کہ ) ہماری ایک باندی نے ہمارے ہی ریوڑ کی ایک بکری کو ( جب کہ وہ چر رہی تھی ) دیکھا کہ مرنے کے قریب ہے ۔ اس نے ایک پتھر توڑ کر اس سے اس بکری کو ذبح کر دیا ۔ انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ جب تک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں میں پوچھ نہ لوں اس کا گوشت نہ کھانا ۔ یا ( یوں کہا کہ ) جب تک میں کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس کے بارے میں پوچھنے کے لیے نہ بھیجوں ، چنانچہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ، یا کسی کو ( پوچھنے کے لیے ) بھیجا ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا گوشت کھانے کے لیے حکم فرمایا ۔ عبیداللہ نے کہا کہ مجھے یہ بات عجیب معلوم ہوئی کہ باندی ( عورت ) ہونے کے باوجود اس نے ذبح کر دیا ۔ اس روایت کی متابعت عبدہ نے عبیداللہ کے واسطہ سے کی ہے ۔

#2305sahih-bukhari · 41

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ لِرَجُلٍ عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم سِنٌّ مِنَ الإِبِلِ فَجَاءَهُ يَتَقَاضَاهُ فَقَالَ ‏"‏ أَعْطُوهُ ‏"‏‏.‏ فَطَلَبُوا سِنَّهُ فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ إِلاَّ سِنًّا فَوْقَهَا‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَعْطُوهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ أَوْفَيْتَنِي أَوْفَى اللَّهُ بِكَ‏.‏ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ خِيَارَكُمْ أَحْسَنُكُمْ قَضَاءً ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) owed somebody a camel of a certain age. When he came to demand it back, the Prophet (ﷺ) said (to some people), "Give him (his due)." When the people searched for a camel of that age, they found none, but found a camel one year older. The Prophet (ﷺ) said, "Give (it to) him." On that, the man remarked, "You have given me my right in full. May Allah give you in full." The Prophet (ﷺ) said, "The best amongst you is the one who pays the rights of others generously."

Urdu

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک شخص کا ایک خاص عمر کا اونٹ قرض تھا ۔ وہ شخص تقاضا کرنے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنے صحابہ سے ) فرمایا کہ ادا کر دو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس عمر کا اونٹ تلاش کیا لیکن نہیں ملا ۔ البتہ اس سے زیادہ عمر کا ( مل سکا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہی انہیں دے دو ۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ آپ نے مجھے پورا پورا حق دے دیا ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو بھی پورا بدلہ دے ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض وغیرہ کو پوری طرح ادا کر دیتے ہیں ۔

#2306sahih-bukhari · 41

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، أَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَتَقَاضَاهُ، فَأَغْلَظَ، فَهَمَّ بِهِ أَصْحَابُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالاً ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَعْطُوهُ سِنًّا مِثْلَ سِنِّهِ ‏"‏‏.‏ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لاَ نَجِدُ إِلاَّ أَمْثَلَ مِنْ سِنِّهِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَعْطُوهُ فَإِنَّ مِنْ خَيْرِكُمْ أَحْسَنَكُمْ قَضَاءً ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

A man came to the Prophet (ﷺ) demanding his debts and behaved rudely. The companions of the Prophet (ﷺ) intended to harm him, but Allah's Messenger (ﷺ) said (to them), "Leave him, for the creditor (i.e. owner of a right) has the right to speak." Allah's Messenger (ﷺ) then said, "Give him a camel of the same age as that of his." The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! There is only a camel that is older than his." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Give (it to) him, for the best amongst you is he who pays the rights of others handsomely."

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے سلمہ بن کہیل نے بیان کیا ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے سنا اور انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ

ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اپنے قرض کا ) تقاضا کرنے آیا ، اور سخت گفتگو کرنے لگا ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غصہ ہو کر اس کی طرف بڑھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو ۔ کیونکہ جس کا کسی پر حق ہو تو وہ ( بات ) کہنے کا بھی حق رکھتا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے قرض والے جانور کی عمر کا ایک جانور اسے دے دو ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس سے زیادہ عمر کا جانور تو موجود ہے ۔ ( لیکن اس عمر کا نہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے وہی دے دو ۔ کیونکہ سب سے اچھا آدمی وہ ہے جو دوسروں کا حق پوری طرح ادا کر دے ۔

#8sahih-bukhari · 41

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، قَالَ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ وَزَعَمَ عُرْوَةُ أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، أَخْبَرَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَامَ حِينَ جَاءَهُ وَفْدُ هَوَازِنَ مُسْلِمِينَ، فَسَأَلُوهُ أَنْ يَرُدَّ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ وَسَبْيَهُمْ فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَحَبُّ الْحَدِيثِ إِلَىَّ أَصْدَقُهُ‏.‏ فَاخْتَارُوا إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ إِمَّا السَّبْىَ، وَإِمَّا الْمَالَ، وَقَدْ كُنْتُ اسْتَأْنَيْتُ بِهِمْ ‏"‏‏.‏ وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْتَظَرَهُمْ بِضْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، حِينَ قَفَلَ مِنَ الطَّائِفِ، فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم غَيْرُ رَادٍّ إِلَيْهِمْ إِلاَّ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ قَالُوا فَإِنَّا نَخْتَارُ سَبْيَنَا‏.‏ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي الْمُسْلِمِينَ، فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ إِخْوَانَكُمْ هَؤُلاَءِ قَدْ جَاءُونَا تَائِبِينَ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنْ أَرُدَّ إِلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يُطَيِّبَ بِذَلِكَ فَلْيَفْعَلْ، وَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَكُونَ عَلَى حَظِّهِ حَتَّى نُعْطِيَهُ إِيَّاهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يُفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا فَلْيَفْعَلْ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ النَّاسُ قَدْ طَيَّبْنَا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّا لاَ نَدْرِي مَنْ أَذِنَ مِنْكُمْ فِي ذَلِكَ مِمَّنْ لَمْ يَأْذَنْ، فَارْجِعُوا حَتَّى يَرْفَعُوا إِلَيْنَا عُرَفَاؤُكُمْ أَمْرَكُمْ ‏"‏‏.‏ فَرَجَعَ النَّاسُ فَكَلَّمَهُمْ عُرَفَاؤُهُمْ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُمْ قَدْ طَيَّبُوا وَأَذِنُوا‏.‏

Narrated Marwan bin Al-Hakam and Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہ :

When the delegates of the tribe of Hawazin after embracing Islam, came to Allah's Messenger (ﷺ), he got up. They appealed to him to return their properties and their captives. Allah's Messenger (ﷺ) said to them, "The most beloved statement to me is the true one. So, you have the option of restoring your properties or your captives, for I have delayed distributing them." The narrator added, Allah's Messenger (ﷺ) c had been waiting for them for more than ten days on his return from Taif. When they realized that Allah's Apostle would return to them only one of two things, they said, "We choose our captives." So, Allah's Apostle got up in the gathering of the Muslims, praised Allah as He deserved, and said, "Then after! These brethren of yours have come to you with repentance and I see it proper to return their captives to them. So, whoever amongst you likes to do that as a favor, then he can do it, and whoever of you wants to stick to his share till we pay him from the very first booty which Allah will give us then he can do so." The people replied, "We agree to give up our shares willingly as a favor for Allah's Apostle." Then Allah's Messenger (ﷺ) said, "We don't know who amongst you has agreed and who hasn't. Go back and your chiefs may tell us your opinion." So, all of them returned and their chiefs discussed the matter with them and then they (i.e. their chiefs) came to Allah's Messenger (ﷺ) to tell him that they (i.e. the people) had given up their shares gladly and willingly.

Urdu

ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے لیث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، کہ عروہ یقین کے ساتھ بیان کرتے تھے اور انہیں مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی تھی کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( غزوہ حنین کے بعد ) جب قبیلہ ہوازن کا وفد مسلمان ہو کر حاضر ہوا تو انہوں نے درخواست کی کہ ان کے مال و دولت اور ان کے قیدی انہیں واپس کر دیئے جائیں ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے زیادہ سچی بات مجھے سب سے زیادہ پیاری ہے ۔ تمہیں اپنے دو مطالبوں میں سے صرف کسی ایک کو اختیار کرنا ہو گا ، یا قیدی واپس لے لو ، یا مال لے لو ، میں اس پر غور کرنے کی وفد کو مہلت بھی دیتا ہوں ۔ چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف سے واپسی کے بعد ان کا ( جعرانہ میں ) تقریباً دس رات تک انتظا رکیا ۔ پھر جب قبیلہ ہوازن کے وکیلوں پر یہ بات واضح ہو گئی کہ آپ ان کے مطالبہ کا صرف ایک ہی حصہ تسلیم کر سکتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم صرف اپنے ان لوگوں کو واپس لینا چاہتے ہیں جو آپ کی قید میں ہیں ۔ اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو خطاب فرمایا ۔ پہلے اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا ، امابعد ! یہ تمہارے بھائی توبہ کر کے مسلمان ہو کر تمہارے پاس آئے ہیں ۔ اس لیے میں نے مناسب جانا کہ ان کے قیدیوں کو واپس کر دوں ۔ اب جو شخص اپنی خوشی سے ایسا کرنا چاہے تو اسے کر گزرے ۔ اور جو شخص یہ چاہتا ہو کہ اس کا حصہ باقی رہے اور ہم اس کے اس حصہ کو ( قیمت کی شکل میں ) اس وقت واپس کر دیں جب اللہ تعالیٰ ( آج کے بعد ) سب سے پہلا مال غنیمت کہیں سے دلا دے تو اسے بھی کر گزرنا چاہئے ۔ یہ سن کر سب لوگ بولے پڑے کہ ہم بخوشی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ان کے قیدیوں کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح ہم اس کی تمیز نہیں کر سکتے کہ تم میں سے کس نے اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی ہے ۔ اس لیے تم سب ( اپنے اپنے ڈیروں میں ) واپس جاؤ اور وہاں سے تمہارے وکیل تمہارا فیصلہ ہمارے پاس لائیں ۔ چنانچہ سب لوگ واپس چلے گئے ۔ اور ان کے سرداروں نے ( جو ان کے نمائندے تھے ) اس صورت حال پر بات کی پھر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا کہ سب نے بخوشی دل سے اجازت دے دی ہے ۔

#2309sahih-bukhari · 41

حَدَّثَنَا الْمَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَغَيْرِهِ،، يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَلَمْ يُبَلِّغْهُ كُلُّهُمْ رَجُلٌ وَاحِدٌ مِنْهُمْ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ، فَكُنْتُ عَلَى جَمَلٍ ثَفَالٍ، إِنَّمَا هُوَ فِي آخِرِ الْقَوْمِ، فَمَرَّ بِي النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ مَنْ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْتُ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ مَا لَكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنِّي عَلَى جَمَلٍ ثَفَالٍ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَمَعَكَ قَضِيبٌ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَعْطِنِيهِ ‏"‏‏.‏ فَأَعْطَيْتُهُ فَضَرَبَهُ فَزَجَرَهُ، فَكَانَ مِنْ ذَلِكَ الْمَكَانِ مِنْ أَوَّلِ الْقَوْمِ قَالَ ‏"‏ بِعْنِيهِ ‏"‏‏.‏ فَقُلْتُ بَلْ هُوَ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ بِعْنِيهِ قَدْ أَخَذْتُهُ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ، وَلَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ أَخَذْتُ أَرْتَحِلُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَيْنَ تُرِيدُ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً قَدْ خَلاَ مِنْهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَهَلاَّ جَارِيَةً تُلاَعِبُهَا وَتُلاَعِبُكَ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ إِنَّ أَبِي تُوُفِّيَ وَتَرَكَ بَنَاتٍ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَنْكِحَ امْرَأَةً قَدْ جَرَّبَتْ خَلاَ مِنْهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَذَلِكَ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ قَالَ ‏"‏ يَا بِلاَلُ اقْضِهِ وَزِدْهُ ‏"‏‏.‏ فَأَعْطَاهُ أَرْبَعَةَ دَنَانِيرَ، وَزَادَهُ قِيرَاطًا‏.‏ قَالَ جَابِرٌ لاَ تُفَارِقُنِي زِيَادَةُ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ فَلَمْ يَكُنِ الْقِيرَاطُ يُفَارِقُ جِرَابَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ‏.‏

Narrated Jabir bin `Abdullah:

I was accompanying the Prophet (ﷺ) on a journey and was riding a slow camel that was lagging behind the others. The Prophet (ﷺ) passed by me and asked, "Who is this?" I replied, "Jabir bin `Abdullah." He asked, "What is the matter, (why are you late)?" I replied, "I am riding a slow camel." He asked, "Do you have a stick?" I replied in the affirmative. He said, "Give it to me." When I gave it to him, he beat the camel and rebuked it. Then that camel surpassed the others thenceforth. The Prophet (ﷺ) said, "Sell it to me." I replied, "It is (a gift) for you, O Allah's Messenger (ﷺ)." He said, "Sell it to me. I have bought it for four Dinars (gold pieces) and you can keep on riding it till Medina." When we approached Medina, I started going (towards my house). The Prophet (ﷺ) said, "Where are you going?" I Sa`d, "I have married a widow." He said, "Why have you not married a virgin to fondle with each other?" I said, "My father died and left daughters, so I decided to marry a widow (an experienced woman) (to look after them)." He said, "Well done." When we reached Medina, Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Bilal, pay him (the price of the camel) and give him extra money." Bilal gave me four Dinars and one Qirat extra. (A sub-narrator said): Jabir added, "The extra Qirat of Allah's Messenger (ﷺ) never parted from me." The Qirat was always in Jabir bin `Abdullah's purse.

Urdu

ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ، ان سے عطاء بن ابی رباح اور کئی لوگوں نے ایک دوسرے کی روایت میں زیادتی کے ساتھ ۔ سب راویوں نے اس حدیث کو جابر رضی اللہ عنہ تک نہیں پہنچایا بلکہ ایک راوی نے ان میں سے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ وہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا ،

میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھا اور میں ایک سست اونٹ پر سوار تھا اور وہ سب سے آخر میں رہتا تھا ۔ اتفاق سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میری طرف سے ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ کون صاحب ہیں ؟ میں نے عرض کیا جابر بن عبداللہ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہوئی ( کہ اتنے پیچھے رہ گئے ہو ) میں بولا کہ ایک نہایت سست رفتار اونٹ پر سوار ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تمہارے پاس کوئی چھڑی بھی ہے ؟ میں نے کہا کہ جی ہاں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ مجھے دیدے ۔ میں نے آپ کی خدمت میں وہ پیش کر دی ۔ آپ نے اس چھڑی سے اونٹ کو جو مارا اور ڈانٹا تو اس کے بعد وہ سب سے آگے رہنے لگا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے فروخت کر دے ۔ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ہے ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مجھے فروخت کر دے ۔ یہ بھی فرمایا کہ چار دینار میں اسے میں خریدتا ہوں ویسے تم مدینہ تک اسی پر سوار ہو کر چل سکتے ہو ۔ پھر جب مدینہ کے قریب ہم پہنچے تو میں ( دوسری طرف ) جانے لگا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کہاں جا رہے ہو ؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کر لی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی باکرہ سے کیوں نہ کی کہ تم بھی اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ بھی تمہارے ساتھ کھیلتی ۔ میں نے عرض کیا کہ والد شہادت پا چکے ہیں ۔ اور گھر میں کئی بہنیں ہیں ۔ اس لیے میں نے سوچا کہ کسی ایسی خاتون سے شادی کروں جو بیوہ اور تجربہ کار ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو ٹھیک ہے ، پھر مدینہ پہنچنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بلال ! ان کی قیمت ادا کر دو اور کچھ بڑھا کر دے دو ۔ چنانچہ انہوں نے چار دینار بھی دئیے ۔ اور فالتو ایک قیراط بھی دیا ۔ جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ انعام میں اپنے سے کبھی جدا نہیں کرتا ، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ قیراط جابر رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنی تھیلی میں محفوظ رکھا کرتے تھے ۔

#2310sahih-bukhari · 41

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ لَكَ مِنْ نَفْسِي‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ زَوِّجْنِيهَا‏.‏ قَالَ ‏ "‏ قَدْ زَوَّجْنَاكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ ‏"‏‏.‏

Narrated Sahl bin Sad:

A woman came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I want to give up myself to you." A man said, "Marry her to me." The Prophet (ﷺ) said, "We agree to marry her to you with what you know of the Qur'an by heart."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک رحمہ اللہ نے خبر دی ، انہیں ابوحازم نے ، انہیں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے بیان کیا کہ

ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے خود کو آپ کو بخش دیا ۔ اس پر ایک صحابی نے کہا کہ آپ میرا ان سے نکاح کر دیجئیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہارا نکاح ان سے اس مہر کے ساتھ کیا جو تمہیں قرآن یاد ہے ۔