Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#2410sahih-bukhari · 45

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ أَخْبَرَنِي قَالَ سَمِعْتُ النَّزَّالَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ، يَقُولُ سَمِعْتُ رَجُلاً، قَرَأَ آيَةً سَمِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ، صلى الله عليه وسلم خِلاَفَهَا، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَأَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏"‏ كِلاَكُمَا مُحْسِنٌ ‏"‏‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ أَظُنُّهُ قَالَ ‏"‏ لاَ تَخْتَلِفُوا فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَهَلَكُوا ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :

I heard a man reciting a verse (of the Holy Qur'an) but I had heard the Prophet (ﷺ) reciting it differently. So, I caught hold of the man by the hand and took him to Allah's Messenger (ﷺ) who said, "Both of you are right." Shu`ba, the sub-narrator said, "I think he said to them, "Don't differ, for the nations before you differed and perished (because of their differences). "

Urdu

ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ عبدالملک بن میسرہ نے مجھے خبری دی کہا کہ میں نے نزال بن سمرہ سے سنا ، اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے سنا ، انہوں نے کہا کہ

میں نے ایک شخص کو قرآن کی آیت اس طرح پڑھتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم سے میں نے اس کے خلاف سنا تھا ۔ اس لیے میں ان کا ہاتھ تھامے آپ کی خدمت میں لے گیا ۔ آپ نے ( میرا اعتراض سن کر ) فرمایا کہ تم دونوں درست ہو ۔ شعبہ نے بیان کیا کہ میں سجھتا ہوں کہ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اختلاف نہ کرو ، کیونکہ تم سے پہلے لوگ اختلاف ہی کی وجہ سے تباہ ہو گئے ۔

#2411sahih-bukhari · 45

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ اسْتَبَّ رَجُلاَنِ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَرَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ، قَالَ الْمُسْلِمُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُحَمَّدًا عَلَى الْعَالَمِينَ، فَقَالَ الْيَهُودِيُّ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْعَالَمِينَ‏.‏ فَرَفَعَ الْمُسْلِمُ يَدَهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَلَطَمَ وَجْهَ الْيَهُودِيِّ، فَذَهَبَ الْيَهُودِيُّ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهِ وَأَمْرِ الْمُسْلِمِ، فَدَعَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الْمُسْلِمَ فَسَأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ، فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تُخَيِّرُونِي عَلَى مُوسَى، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَصْعَقُ مَعَهُمْ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُفِيقُ، فَإِذَا مُوسَى بَاطِشٌ جَانِبَ الْعَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ فَأَفَاقَ قَبْلِي، أَوْ كَانَ مِمَّنِ اسْتَثْنَى اللَّهُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

11 The Jew went to the Prophet and informed him of what had happened between him and the Muslim. The Prophet (ﷺ) sent for the Muslim and asked him about it. The Muslim informed him of the event. The Prophet (ﷺ) said, "Do not give me superiority over Moses, for on the Day of Resurrection all the people will fall unconscious and I will be one of them, but I will. be the first to gain consciousness, and will see Moses standing and holding the side of the Throne (of Allah). I will not know whether (Moses) has also fallen unconscious and got up before me, or Allah has exempted him from that stroke."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے ابوسلمہ اور عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

دو شخصوں نے جن میں ایک مسلمان تھا اور دوسرا یہودی ، ایک دوسرے کو برا بھلا کہا ۔ مسلمان نے کہا ، اس ذا ت کی قسم ! جس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی ۔ اور یہودی نے کہا ، اس ذا ت کی قسم جس نے موسیٰ ( علیہ الصلٰوۃ و السلام ) کو تمام دنیا والوں پر بزرگی دی ۔ اس پر مسلمان نے ہاتھ اٹھا کر یہودی کے طمانچہ مارا ۔ وہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اور مسلمان کے ساتھ اپنے واقعہ کو بیان کیا ۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مسلمان کو بلایا اور ان سے واقعہ کے متعلق پوچھا ۔ انہوں نے آپ کو اس کی تفصیل بتا دی ۔ آپ نے اس کے بعد فرمایا ، مجھے موسیٰ علیہ السلام پر ترجیح نہ دو ۔ لوگ قیامت کے دن بیہوش کر دیئے جائیں گے ۔ میں بھی بیہوش ہو جاؤں گا ۔ بے ہوشی سے ہوش میں آنے والا سب سے پہلا شخص میں ہوں گا ، لیکن موسیٰ علیہ السلام کو عرش الٰہی کا کنارہ پکڑے ہوئے پاؤں گا ۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بیہوش ہونے والوں میں ہوں گے اور مجھ سے پہلے انہیں ہوش آ جائے گا ۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کو ان لوگوں میں رکھا ہے جو بے ہوشی سے مستثنیٰ ہیں ۔

#2412sahih-bukhari · 45

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ جَاءَ يَهُودِيٌّ، فَقَالَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ضَرَبَ وَجْهِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ مَنْ ‏"‏‏.‏ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ادْعُوهُ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَضَرَبْتَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَ سَمِعْتُهُ بِالسُّوقِ يَحْلِفُ وَالَّذِي اصْطَفَى مُوسَى عَلَى الْبَشَرِ‏.‏ قُلْتُ أَىْ خَبِيثُ، عَلَى مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم فَأَخَذَتْنِي غَضْبَةٌ ضَرَبْتُ وَجْهَهُ‏.‏ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ لاَ تُخَيِّرُوا بَيْنَ الأَنْبِيَاءِ، فَإِنَّ النَّاسَ يَصْعَقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأَكُونُ أَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الأَرْضُ، فَإِذَا أَنَا بِمُوسَى آخِذٌ بِقَائِمَةٍ مِنْ قَوَائِمِ الْعَرْشِ، فَلاَ أَدْرِي أَكَانَ فِيمَنْ صَعِقَ، أَمْ حُوسِبَ بِصَعْقَةِ الأُولَى ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

While Allah's Messenger (ﷺ) was sitting, a Jew came and said, "O Abul Qasim! One of your companions has slapped me on my face." The Prophet (ﷺ) asked who that was. He replied that he was one of the Ansar. The Prophet (ﷺ) sent for him, and on his arrival, he asked him whether he had beaten the Jew. He (replied in the affirmative and) said, "I heard him taking an oath in the market saying, 'By Him Who gave Moses superiority over all the human beings.' I said, 'O wicked man! (Has Allah given Moses superiority) even over Muhammad I became furious and slapped him over his face." The Prophet (ﷺ) said, "Do not give a prophet superiority over another, for on the Day of Resurrection all the people will fall unconscious and I will be the first to emerge from the earth, and will see Moses standing and holding one of the legs of the Throne. I will not know whether Moses has fallen unconscious or the first unconsciousness was sufficient for him."

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے ان کے باپ یحییٰ بن عمارہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی آیا اور کہا کہ اے ابوالقاسم ! آپ کے اصحاب میں سے ایک نے مجھے طمانچہ مارا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ، کس نے ؟ اس نے کہا کہ ایک انصاری نے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں بلاؤ ۔ وہ آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا تم نے اسے مارا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے اسے بازار میں یہ قسم کھاتے سنا ۔ اس ذات کی قسم ! جس نے موسیٰ علیہ السلام کو تمام انسانوں پر بزرگی دی ۔ میں نے کہا ، او خبیث ! کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ! مجھے غصہ آیا اور میں نے اس کے منہ پر تھپڑ دے مارا ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو انبیاء میں باہم ایک دوسرے پر اس طرح بزرگی نہ دیا کرو ۔ لوگ قیامت میں بیہوش ہو جائیں گے ۔ اپنی قبر سے سب سے پہلے نکلنے والا میں ہی ہوں گا ۔ لیکن میں دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کا پایہ پکڑے ہوئے ہیں ۔ اب مجھے معلوم نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام بھی بیہوش ہوں گے اور مجھ سے پہلے ہوش میں آ جائیں گے یا انہیں پہلی بے ہوشی جو طور پر ہو چکی ہے وہی کافی ہو گی ۔

#2413sahih-bukhari · 45

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ يَهُودِيًّا، رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، قِيلَ مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ أَفُلاَنٌ، أَفُلاَنٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ‏.‏

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

A Jew crushed the head of a girl between two stones. The girl was asked who had crushed her head, and some names were mentioned before her, and when the name of the Jew was mentioned, she nodded agreeing. The Jew was captured and when he confessed, the Prophet (ﷺ) ordered that his head be crushed between two stones.

Urdu

ہم سے موسیٰ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا تھا ۔ ( اس میں کچھ جان باقی تھی ) اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ کیا فلاں نے ، فلاں نے ؟ جب اس یہودی کا نام آیا تو اس نے اپنے سر سے اشارہ کیا ( کہ ہاں ) یہودی پکڑا گیا اور اس نے بھی جرم کا اقرار کر لیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کا سر بھی دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا گیا ۔

#2414sahih-bukhari · 45

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كَانَ رَجُلٌ يُخْدَعُ فِي الْبَيْعِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِذَا بَايَعْتَ فَقُلْ لاَ خِلاَبَةَ ‏"‏‏.‏ فَكَانَ يَقُولُهُ‏.‏

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

A man was often cheated in buying. The Prophet (ﷺ) said to him, "When you buy something, say (to the seller), No cheating." The man used to say so thenceforward .

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ نے کہا کہ

ایک صحابی کوئی چیز خریدتے وقت دھوکا کھا جایا کرتے تھے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جب تو خریدا کرے تو یہ کہہ دے کہ کوئی دھوکا نہ ہو ۔ پس وہ اسی طرح کہا کرتے تھے ۔

#2415sahih-bukhari · 45

حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَجُلاً، أَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ، لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَرَدَّهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم، فَابْتَاعَهُ مِنْهُ نُعَيْمُ بْنُ النَّحَّامِ‏.‏

Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :

A man manumitted a slave and he had no other property than that, so the Prophet (ﷺ) canceled the manumission (and sold the slave for him). Nu'aim bin Al-Nahham bought the slave from him.

Urdu

ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک شخص نے اپنا ایک غلام آزاد کیا ، لیکن اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہ تھا ۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کا غلام واپس کرا دیا ۔ اور اسے نعیم بن نحام نے خرید لیا ۔

#7sahih-bukhari · 45

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ وَهْوَ فِيهَا فَاجِرٌ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهْوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَقَالَ الأَشْعَثُ فِيَّ وَاللَّهِ كَانَ ذَلِكَ، كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي، فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ أَلَكَ بَيِّنَةٌ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لاَ‏.‏ قَالَ فَقَالَ لِلْيَهُودِيِّ ‏"‏ احْلِفْ ‏"‏‏.‏ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذًا يَحْلِفَ، وَيَذْهَبَ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى ‏{‏إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلاً‏}‏ إِلَى آخِرِ الآيَةِ‏.‏

Narrated `Abdullah bin Mas`ud رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Whoever takes a false oath so as to take the property of a Muslim (illegally) will meet Allah while He will be angry with him." Al-Ash'ath said: By Allah, that saying concerned me. I had common land with a Jew, and the Jew later on denied my ownership, so I took him to the Prophet who asked me whether I had a proof of my ownership. When I replied in the negative, the Prophet asked the Jew to take an oath. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! He will take an oath and deprive me of my property." So, Allah revealed the following verse: "Verily! Those who purchase a little gain at the cost of Allah's covenant and their oaths." (3.77)

Urdu

ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی ، انہیں اعمش نے ، انہیں شقیق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ جس نے کوئی جھوٹی قسم جان بوجھ کر کھائی تاکہ کسی مسلمان کا مال ناجائز طور پر حاصل کر لے ۔ تو وہ اللہ تعالیٰ ٰکے سامنے اس حالت میں حاضر ہو گا کہ اللہ پاک اس پر نہایت ہی غضبناک ہو گا ۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر اشعث رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھ سے ہی متعلق ایک مسئلے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا ۔ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین کا جھگڑا تھا ۔ اس نے انکار کیا تو میں نے مقدمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا ، کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے ؟ میں نے کہا کہ نہیں ۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا کہ پھر تو قسم کھا ۔ اشعث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! پھر تو یہ جھوٹی قسم کھا لے گا اور میرا مال اڑا لے جائے گا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ ٰنے یہ آیت نازل فرمائی ، بیشک وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی پونچی خریدتے ہیں ۔ آخر آیت تک ۔

#2418sahih-bukhari · 45

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ كَعْبٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ لَهُ عَلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا، حَتَّى كَشَفَ سِجْفَ حُجْرَتِهِ فَنَادَى ‏"‏ يَا كَعْبُ ‏"‏‏.‏ قَالَ لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا ‏"‏‏.‏ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ، أَىِ الشَّطْرَ‏.‏ قَالَ لَقَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ‏.‏ قَالَ ‏"‏ قُمْ فَاقْضِهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Ka`b رضی اللہ عنہ :

He demanded his debt back from Ibn Abi Hadrad رضی اللہ عنہ in the Mosque and their voices grew louder till Allah's Messenger (ﷺ) heard them while he was in his house. He came out to them raising the curtain of his room and addressed Ka`b, "O Ka`b!" Ka`b replied, "Labaik, O Allah's Messenger (ﷺ)." (He said to him), "Reduce your debt to one half," gesturing with his hand. Ka`b said, "I have done so, O Allah's Apostle!" On that the Prophet (ﷺ) said to Ibn Abi Hadrad رضی اللہ عنہ , "Get up and repay the debt, to him."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم کو یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے ، انہوں نے کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ

انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے مسجد میں اپنے قرض کا تقاضا کیا ۔ اور دونوں کی آواز اتنی بلند ہو گئی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی گھر میں سن لی ۔ آپ نے حجرہ مبارک کا پردہ اٹھا کر پکارا اے کعب ! انہوں نے عرض کیا ، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے قرض میں سے اتنا کم کر دے اور آپ نے آدھا قرض کم کر دینے کا اشارہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کم کر دیا ۔ پھر آپ نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اٹھ اب قرض ادا کر دے ۔

#2419sahih-bukhari · 45

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَؤُهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَقْرَأَنِيهَا، وَكِدْتُ أَنْ أَعْجَلَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمْهَلْتُهُ حَتَّى انْصَرَفَ، ثُمَّ لَبَّبْتُهُ بِرِدَائِهِ فَجِئْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقُلْتُ إِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ لِي ‏"‏ أَرْسِلْهُ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ لَهُ ‏"‏ اقْرَأْ ‏"‏‏.‏ فَقَرَأَ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَكَذَا أُنْزِلَتْ ‏"‏‏.‏ ثُمَّ قَالَ لِي ‏"‏ اقْرَأْ ‏"‏‏.‏ فَقَرَأْتُ فَقَالَ ‏"‏ هَكَذَا أُنْزِلَتْ‏.‏ إِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ فَاقْرَءُوا مِنْهُ مَا تَيَسَّرَ ‏"‏‏.‏

Narrated `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ :

I heard Hisham bin Hakim bin Hizam رضی اللہ عنہ reciting Surat-al-Furqan in a way different to that of mine. Allah's Messenger (ﷺ) had taught it to me (in a different way). So, I was about to quarrel with him (during the prayer) but I waited till he finished, then I tied his garment round his neck and seized him by it and brought him to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "I have heard him reciting Surat-al-Furqan in a way different to the way you taught it to me." The Prophet (ﷺ) ordered me to release him and asked Hisham to recite it. When he recited it, Allah s Apostle said, "It was revealed in this way." He then asked me to recite it. When I recited it, he said, "It was revealed in this way. The Qur'an has been revealed in seven different ways, so recite it in the way that is easier for you."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے ، انہیں عبدالرحمٰن بن عبدالقاری نے کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ وہ بیان کرتے تھے کہ

میں نے ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورۃ الفرقان ایک دفعہ اس قرآت سے پڑھتے سنا جو اس کے خلاف تھی جو میں پڑھتا تھا ۔ حالانکہ میری قرآت خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی ۔ قریب تھا کہ میں فوراً ہی ان پر کچھ کر بیٹھوں ، لیکن میں نے انہیں مہلت دی کہ وہ ( نماز سے ) فارغ ہو لیں ۔ اس کے بعد میں نے ان کے گلے میں چادر ڈال کر ان کو گھسیٹا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر کیا ۔ میں نے آپ سے کہا کہ میں نے انہیں اس قرآت کے خلاف پڑھتے سنا ہے جو آپ نے مجھے سکھائی ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ پہلے انہیں چھوڑ دے ۔ پھر ان سے فرمایا کہ اچھا اب تم قرآت سناؤ ۔ انہوں نے وہی اپنی قرآت سنائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی تھی ۔ اس کے بعد مجھ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب تم بھی پڑھو ، میں نے بھی پڑھ کر سنایا ۔ آپ نے اس پر فرمایا کہ اسی طرح نازل ہوئی ۔ قرآن سات قراتوں میں نازل ہوا ہے ۔ تم کو جس میں آسانی ہو اسی طرح سے پڑھ لیا کرو ۔

#2420sahih-bukhari · 45

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلاَةِ فَتُقَامَ ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى مَنَازِلِ قَوْمٍ لاَ يَشْهَدُونَ الصَّلاَةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "No doubt, I intended to order somebody to pronounce the Iqama of the (compulsory congregational) prayer and then I would go to the houses of those who do not attend the prayer and burn their houses over them."

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے محمد بن عدی نے بیان کیا ، ان سے شعبہ نے ، ان سے سعد بن ابراہیم نے ، ان سے حمید بن عبدالرحمٰن نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں نے تو یہ ارادہ کر لیا تھا کہ نماز کی جماعت قائم کرنے کا حکم دے کر خود ان لوگوں کے گھروں میں جاؤں جو جماعت میں حاضر نہیں ہوتے اور ان کے گھر کو جلا دوں ۔