Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#1sahih-bukhari · 55

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، رضى الله عنهما يُخْبِرَانِ عَنْ أَصْحَابِ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ لَمَّا كَاتَبَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو يَوْمَئِذٍ كَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو عَلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَنَّهُ لاَ يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ‏.‏ فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ، وَامْتَعَضُوا مِنْهُ، وَأَبَى سُهَيْلٌ إِلاَّ ذَلِكَ، فَكَاتَبَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَلَى ذَلِكَ، فَرَدَّ يَوْمَئِذٍ أَبَا جَنْدَلٍ عَلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِهِ أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلاَّ رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ، وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، وَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَئِذٍ وَهْىَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، فَلَمْ يَرْجِعْهَا إِلَيْهِمْ لِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فِيهِنَّ ‏{‏إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِهِنَّ‏}‏ إِلَى قَوْلِهِ ‏{‏وَلاَ هُمْ يَحِلُّونَ لَهُنَّ‏}‏‏.‏

Narrated Marwan and al-Miswar bin Makhrama (from the companions of Allah's Messenger (ﷺ):

When Suhail bin `Amr agreed to the Treaty (of Hudaibiya), one of the things he stipulated then, was that the Prophet (ﷺ) should return to them (i.e. the pagans) anyone coming to him from their side, even if he was a Muslim; and would not interfere between them and that person. The Muslims did not like this condition and got disgusted with it. Suhail did not agree except with that condition. So, the Prophet (ﷺ) agreed to that condition and returned Abu Jandal to his father Suhail bin `Amr. Thenceforward the Prophet (ﷺ) returned everyone in that period (of truce) even if he was a Muslim. During that period some believing women emigrants including Um Kulthum bint `Uqba bin Abu Muait رضی اللہ عنہا who came to Allah's Messenger (ﷺ) and she was a young lady then. Her relative came to the Prophet (ﷺ) and asked him to return her, but the Prophet (ﷺ) did not return her to them for Allah had revealed the following Verse regarding women: "O you who believe! When the believing women come to you as emigrants. Examine them, Allah knows best as to their belief, then if you know them for true believers, Send them not back to the unbelievers, (for) they are not lawful (wives) for the disbelievers, Nor are the unbelievers lawful (husbands) for them (60.10)

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی ، انہوں نے خلیفہ مروان اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، یہ دونوں حضرات اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دیتے تھے کہ

جب سہیل بن عمرو نے ( حدیبیہ میں کفار قریش کی طرف سے معاہدہ صلح ) لکھوایا تو جو شرائط نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سہیل نے رکھی تھیں ، ان میں یہ شرط بھی تھیں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اگر آپ کے یہاں ( فرار ہو کر ) چلا جائے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو تو آپ کو اسے ہمارے حوالہ کرنا ہو گا ۔ مسلمان یہ شرط پسند نہیں کر رہے تھے اور اس پر انہیں دکھ ہوا تھا ۔ لیکن سہیل نے اس شرط کے بغیر صلح قبول نہ کی ۔ آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی شرط پر صلح نامہ لکھوا لیا ۔ اتفاق سے اسی دن ابوجندل رضی اللہ عنہ کو جو مسلمان ہو کر آیا تھا ( معاہدہ کے تحت بادل ناخواستہ ) ان کے والد سہیل بن عمرو کے حوالے کر دیا گیا ۔ اسی طرح مدت صلح میں جو مرد بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( مکہ سے بھاگ کر آیا ) آپ نے اسے ان کے حوالے کر دیا ۔ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ رہا ہو ۔ لیکن چند ایمان والی عورتیں بھی ہجرت کر کے آ گئی تھیں ، ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بھی ان میں شامل تھیں جو اسی دن ( مکہ سے نکل کر ) آپ کی خدمت میں آئی تھیں ، وہ جوان تھیں اور جب ان کے گھر والے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی واپسی کا مطالبہ کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ان کے حوالے نہیں فرمایا ، بلکہ عورتوں کے متعلق اللہ تعالیٰ ( سورۃ الممتحنہ میں ) ارشاد فرما چکا تھا کہ ” جب مسلمان عورتیں تمہارے یہاں ہجرت کر کے پہنچیں تو پہلے تم ان کا امتحان لے لو ، یوں تو ان کے ایمان کے متعلق جاننے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد تک کہ ” کفار و مشرکین ان کے لیے حلال نہیں ہیں الخ “ ۔

#2713sahih-bukhari · 55

قَالَ عُرْوَةُ فَأَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَمْتَحِنُهُنَّ بِهَذِهِ الآيَةِ ‏{‏يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ ‏}‏ إِلَى ‏{‏غَفُورٌ رَحِيمٌ‏}‏‏.‏ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ أَقَرَّ بِهَذَا الشَّرْطِ مِنْهُنَّ قَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ قَدْ بَايَعْتُكِ ‏"‏‏.‏ كَلاَمًا يُكَلِّمُهَا بِهِ، وَاللَّهِ مَا مَسَّتْ يَدُهُ يَدَ امْرَأَةٍ قَطُّ فِي الْمُبَايَعَةِ، وَمَا بَايَعَهُنَّ إِلاَّ بِقَوْلِهِ‏.‏

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

"Allah's Messenger (ﷺ) used to examine them according to this Verse: "O you who believe! When the believing women come to you, as emigrants test them . . . for Allah is Oft- Forgiving, Most Merciful." (60.10-12) Aisha said, "When any of them agreed to that condition Allah's Apostle would say to her, 'I have accepted your pledge of allegiance.' He would only say that, but, by Allah he never touched the hand of any women (i.e. never shook hands with them) while taking the pledge of allegiance and he never took their pledge of allegiance except by his words (only).

Urdu

عروہ نے کہا کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کرنے والی عورتوں کا اس آیت کی وجہ سے امتحان لیا کرتے تھے ” اے مسلمانو ! جب تمہارے یہاں مسلمان عورتیں ہجرت کر کے آئیں تو تم ان کا امتحان لے لو “ ۔ غفور رحیم تک ۔ عروہ نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ان عورتوں میں سے جو اس شرط کا اقرار کر لیتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ میں نے تم سے بیعت کی ، آپ صرف زبان سے بیعت کرتے تھے ۔ قسم اللہ کی ! بیعت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کسی بھی عورت کے ہاتھ کو کبھی نہیں چھوا ، بلکہ آپ صرف زبان سے بیعت لیا کرتے تھے ۔

#2714sahih-bukhari · 55

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ جَرِيرًا ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاشْتَرَطَ عَلَىَّ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ‏.‏

Narrated Jarir رضی اللہ عنہ :

When I gave the pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) and he stipulated that I should give good advice to every Muslim.

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے زیاد بن علاقہ نے بیان کیا کہ میں نے جریر رضی اللہ عنہ سے سنا ، آپ بیان کرتے تھے کہ

میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کی شرط پر بیعت کی تھی ۔

#2715sahih-bukhari · 55

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى إِقَامِ الصَّلاَةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ‏.‏

Narrated Jareer bin `Abdullah رضی اللہ عنہ:

I gave the pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) for offering the prayers perfectly paying the Zakat and giving good advice to every Muslim.

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے قیس بن ابی حازم نے اور ان سے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے نماز قائم کرنے ، زکوٰۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیرخواہی کرنے کی شرطوں کے ساتھ بیعت کی تھی ۔

#2716sahih-bukhari · 55

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ مَنْ بَاعَ نَخْلاً قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلاَّ أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ ‏"‏‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "If someone sells pollinated date-palms, their fruits will be for the seller, unless the buyer stipulates the contrary."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں نافع نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس نے کوئی ایسا کھجور کا باغ بیچا جس کی پیوند کاری ہو چکی تھی تو اس کا پھل ( اس سال کے ) بیچنے والے ہی کا ہو گا ۔ ہاں اگر خریدار شرط لگا دے ۔ ( تو پھل سمیت بیع سمجھی جائے گی ) ۔

#2717sahih-bukhari · 55

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةََ،ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ بَرِيرَةَ جَاءَتْ عَائِشَةَ تَسْتَعِينُهَا فِي كِتَابَتِهَا، وَلَمْ تَكُنْ قَضَتْ مِنْ كِتَابَتِهَا شَيْئًا، قَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ ارْجِعِي إِلَى أَهْلِكِ، فَإِنْ أَحَبُّوا أَنْ أَقْضِيَ عَنْكِ كِتَابَتَكِ، وَيَكُونَ وَلاَؤُكِ لِي فَعَلْتُ‏.‏ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ إِلَى أَهْلِهَا فَأَبَوْا وَقَالُوا إِنْ شَاءَتْ أَنْ تَحْتَسِبَ عَلَيْكِ فَلْتَفْعَلْ، وَيَكُونَ لَنَا وَلاَؤُكِ‏.‏ فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهَا ‏ "‏ ابْتَاعِي فَأَعْتِقِي، فَإِنَّمَا الْوَلاَءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ‏"‏‏.‏

Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :

Barirah رضی اللہ عنہا came to seek her help in writing for emancipation and at that time she had not paid any part of her price. `Aisha said to her, "Go to your masters and if they agree that I will pay your price (and free you) on condition that your Wala' will be for me, I will pay the money." Barirah رضی اللہ عنہا told her masters about that, but they refused, and said, "If `Aisha رضی اللہ عنہا wants to do a favor she could, but your Wala will be for us." Aisha رضی اللہ عنہا informed Allah's Messenger (ﷺ) of that and he said to her, "Buy and manumit Barirah رضی اللہ عنہا as the Wala' will go to the manumitted."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ

بریرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں اپنی مکاتبت کے بارے میں ان سے مدد لینے کے لیے آئیں ، انہوں نے ابھی تک اس معاملے میں ( اپنے مالکوں کو ) کچھ دیا نہیں تھا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کہ اپنے مالکوں کے یہاں جا کر ( ان سے دریافت کرو ) اگر وہ یہ صورت پسند کریں کہ تمہاری مکاتبت کی ساری رقم میں ادا کر دوں اور تمہاری ولاء میرے لیے ہو جائے تو میں ایسا کر سکتی ہوں ۔ بریرہ نے اس کا تذکرہ جب اپنے مالکوں کے سامنے کیا تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ وہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) اگر چاہیں تو یہ کار ثواب تمہارے ساتھ کر سکتی ہیں لیکن ولاء تو ہمارے ہی رہے گی ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے ان سے فرمایا کہ تم انہیں خرید کر آزاد کر دو ، ولاء تو بہرحال اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کر دے ۔

#2718sahih-bukhari · 55

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ، قَالَ سَمِعْتُ عَامِرًا، يَقُولُ حَدَّثَنِي جَابِرٌ ـ رضى الله عنه أَنَّهُ كَانَ يَسِيرُ عَلَى جَمَلٍ لَهُ قَدْ أَعْيَا، فَمَرَّ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَضَرَبَهُ، فَدَعَا لَهُ، فَسَارَ بِسَيْرٍ لَيْسَ يَسِيرُ مِثْلَهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ ‏"‏‏.‏ قُلْتُ لاَ‏.‏ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ بِعْنِيهِ بِوَقِيَّةٍ ‏"‏‏.‏ فَبِعْتُهُ فَاسْتَثْنَيْتُ حُمْلاَنَهُ إِلَى أَهْلِي، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَتَيْتُهُ بِالْجَمَلِ، وَنَقَدَنِي ثَمَنَهُ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَأَرْسَلَ عَلَى إِثْرِي، قَالَ ‏"‏ مَا كُنْتُ لآخُذَ جَمَلَكَ، فَخُذْ جَمَلَكَ ذَلِكَ فَهْوَ مَالُكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ شُعْبَةُ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَابِرٍ أَفْقَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ظَهْرَهُ إِلَىَ الْمَدِينَةِ‏.‏ وَقَالَ إِسْحَاقُ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ مُغِيرَةَ فَبِعْتُهُ عَلَى أَنَّ لِي فَقَارَ ظَهْرِهِ حَتَّى أَبْلُغَ الْمَدِينَةَ‏.‏ وَقَالَ عَطَاءٌ وَغَيْرُهُ لَكَ ظَهْرُهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ عَنْ جَابِرٍ شَرَطَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ وَقَالَ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ جَابِرٍ وَلَكَ ظَهْرُهُ حَتَّى تَرْجِعَ‏.‏ وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَفْقَرْنَاكَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ‏.‏ وَقَالَ الأَعْمَشُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرٍ تَبَلَّغْ عَلَيْهِ إِلَى أَهْلِكَ‏.‏ وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَابْنُ إِسْحَاقَ عَنْ وَهْبٍ عَنْ جَابِرٍ اشْتَرَاهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِوَقِيَّةٍ‏.‏ وَتَابَعَهُ زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ عَنْ جَابِرٍ‏.‏ وَقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ عَطَاءٍ وَغَيْرِهِ عَنْ جَابِرٍ أَخَذْتُهُ بِأَرْبَعَةِ دَنَانِيرَ‏.‏ وَهَذَا يَكُونُ وَقِيَّةً عَلَى حِسَابِ الدِّينَارِ بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ‏.‏ وَلَمْ يُبَيِّنِ الثَّمَنَ مُغِيرَةُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرٍ، وَابْنُ الْمُنْكَدِرِ وَأَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ‏.‏ وَقَالَ الأَعْمَشُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرٍ وَقِيَّةُ ذَهَبٍ‏.‏ وَقَالَ أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرٍ بِمِائَتَىْ دِرْهَمٍ‏.‏ وَقَالَ دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ عَنْ جَابِرٍ اشْتَرَاهُ بِطَرِيقِ تَبُوكَ، أَحْسِبُهُ قَالَ بِأَرْبَعِ أَوَاقٍ‏.‏ وَقَالَ أَبُو نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ اشْتَرَاهُ بِعِشْرِينَ دِينَارًا‏.‏ وَقَوْلُ الشَّعْبِيِّ بِوَقِيَّةٍ أَكْثَرُ‏.‏ الاِشْتِرَاطُ أَكْثَرُ وَأَصَحُّ عِنْدِي‏.‏ قَالَهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ‏.‏

Narrated Jabir:

While I was riding a (slow) and tired camel, the Prophet (ﷺ) passed by and beat it and prayed for Allah's Blessings for it. The camel became so fast as it had never been before. The Prophet (ﷺ) then said, "Sell it to me for one Uqiyya (of gold)." I said, "No." He again said, "Sell it to me for one Uqiyya (of gold)." I sold it and stipulated that I should ride it to my house. When we reached (Medina) I took that camel to the Prophet (ﷺ) and he gave me its price. I returned home but he sent for me (and when I went to him) he said, "I will not take your camel. Take your camel as a gift for you." (Various narrations are mentioned here with slight variations in expressions relating the condition that Jabir had the right to ride the sold camel up to Medina). Jareer has reported from Mogheerah: Then I sold it and stipulated that its back will be for me till we reached Madinah (Munawwarah). Ataa and other said: Its back is for you up to Madinah (munawwrah). Muhammad bin Munkadir has reported from Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ: I imposed a condition of its back up to Madinah (Munawwarah), Zaid bin Aslam has reported from Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ: Its back is for you until you reach back. Abuz Zubair has reported from Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ: You may ride its back up to Madinah (Munawwarah). Salim has reported from Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ said: The prophet ﷺ purchase it for one Auqiyyah. Similarly, Zaid bin Aslam has reported from Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ . Ibn-e-Juraij nd Ata and other have reported from Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ : He purchased it from me for four dinaars and these dinaars are equivalent to one Auqiyyah; provided, one Dinaar is of ten dirhams. Price is not mentioned in Shabi's report from Hadrat Jabir. And Ibn-e-Al-Munkadir and Abuz Zubair have reported from Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ . Saalim has reported from Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ. Saalim has reported from Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ. One Auqiyyah of gold. There are two hundred dirhams in the report of Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ. Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ says: He purchased it from me on the way to Tabook. I think, he said: Four Auqiyyah. Abu Nadrah has reported from Hadrat Jabir رضی اللہ عنہ: He purchased it for twenty dinaars. Imaam Bukhari said: Shabi's saying of one Auqiyyah is in the most of the narrations. So, it is more authentic in my view due to the majority.

Urdu

ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریا نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عامر سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

وہ ( ایک غزوہ کے موقع پر ) اپنے اونٹ پر سوار آ رہے تھے ، اونٹ تھک گیا تھا ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ادھر سے گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ کو ایک ضرب لگائی اور اس کے حق میں دعا فرمائی ، چنانچہ اونٹ اتنی تیزی سے چلنے لگا کہ کبھی اس طرح نہیں چلا تھا ۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اسے ایک اوقیہ میں مجھے بیچ دو ۔ میں نے انکار کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر پھر میں نے آپ کے ہاتھ بیچ دیا ، لیکن اپنے گھر تک اس پر سواری کو مستثنیٰ کرا لیا ۔ پھر جب ہم ( مدینہ ) پہنچ گئے ، تو میں نے اونٹ آپ کو پیش کر دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قیمت بھی ادا کر دی ، لیکن جب میں واپس ہونے لگا تو میرے پیچھے ایک صاحب کو مجھے بلانے کے لیے بھیجا ( میں حاضر ہوا تو ) آپ نے فرمایا کہ میں تمہارا اونٹ کوئی لے تھوڑا ہی رہا تھا ، اپنا اونٹ لے جاؤ ، یہ تمہارا ہی مال ہے ۔ ( اور قیمت واپس نہیں لی ) شعبہ نے مغیرہ کے واسطے سے بیان کیا ، ان سے عامر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ تک اونٹ پر مجھے سوار ہونے کی اجازت دی تھی ، اسحاق نے جریر سے بیان کیا اور ان سے مغیرہ نے کہ ( جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ) پس میں نے اونٹ اس شرط پر بیچ دیا کہ مدینہ پہنچنے تک اس پر میں سوار رہوں گا ۔ عطاء وغیرہ نے بیان کیا کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ) اس پر مدینہ تک کی سواری تمہاری ہے ۔ محمد بن منکدر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے مدینہ تک سواری کی شرط لگائی تھی ۔ زید بن اسلم نے جابر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے بیان کیا کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ) مدینہ تک اس پر تم ہی رہو گے ۔ ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ مدینہ تک کی سواری کی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی تھی ۔ اعمش نے سالم سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) اپنے گھر تک تم اسی پر سوار ہو کے جاؤ ۔ عبیداللہ اور ابن اسحاق نے وہب سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ اونٹ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ میں خریدا تھا ۔ اس روایت کی متابعت زید بن اسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے کی ہے ۔ ابن جریج نے عطاء وغیرہ سے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے ( کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ) میں تمہارا یہ اونٹ چار دینار میں لیتا ہوں ، اس حساب سے کہ ایک دینار دس درہم کا ہوتا ہے ، چار دینار کا ایک اوقیہ ہو گا ۔ مغیرہ نے شعبی کے واسطہ سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے ( ان کی روایت میں اور ) اسی طرح ابن المنکدر اور ابوالزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں قیمت کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ اعمش نے سالم سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں ایک اوقیہ سونے کی وضاحت کی ہے ۔ ابواسحاق نے سالم سے اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے اپنی روایت میں دو سو درہم بیان کیے ہیں اور داود بن قیس نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن مقسم نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ تبوک کے راستے میں ( غزوہ سے واپس ہوتے ہوئے ) خریدا تھا ۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے کہا کہ چار اوقیہ میں ( خریدا تھا ) ابونضرہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت میں بیان کیا کہ بیس دینار میں خریدا تھا ۔ شعبی کے بیان کے مطابق ایک اوقیہ ہی زیادہ روایتوں میں ہے ۔ اسی طرح شرط لگانا بھی زیادہ روایتوں سے ثابت ہے اور میرے نزدیک صحیح بھی یہی ہے ، یہ ابوعبداللہ ( امام بخاری رحمہ اللہ ) نے فرمایا ۔

#2719sahih-bukhari · 55

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَتِ الأَنْصَارُ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم اقْسِمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ إِخْوَانِنَا النَّخِيلَ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ لاَ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ تَكْفُونَا الْمَئُونَةَ وَنُشْرِكُكُمْ فِي الثَّمَرَةِ‏.‏ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا‏.‏

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Ansar said to the Prophet, "Divide our date-palms between us and our emigrant brothers." The Prophet said, "No." The Ansar said to the emigrants, "You may do the labor (in our gardens) and we will share the fruits with you." The emigrants said, "We hear and obey."

Urdu

ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ۔ ان سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

انصار رضوان اللہ علیہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( مؤاخات کے بعد ) یہ پیش کش کی کہ ہمارے کھجور کے باغات آپ ہم میں اور ہمارے بھائیوں ( مہاجرین ) میں تقسیم فرما دیں ، لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ اس پر انصار نے مہاجرین سے کہا کہ آپ لوگ ہمارے باغوں کے کام کر دیا کریں اور ہمارے ساتھ پھل میں شریک ہو جائیں ، مہاجرین نے کہا کہ ہم نے سن لیا اور ہم ایسا ہی کریں گے ۔

#2720sahih-bukhari · 55

حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَيْبَرَ الْيَهُودَ أَنْ يَعْمَلُوهَا وَيَزْرَعُوهَا، وَلَهُمْ شَطْرُ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا‏.‏

Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) gave the land of Khaibar to the Jews on the condition that they would work on it and cultivate it and they would get half of its yield.

Urdu

ہم سے موسیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جویریہ بنت اسماء نے بیان کیا ، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی زمین یہودیوں کو اس شرط پر دی تھی کہ اس میں کام کریں اور اسے بوئیں تو آدھی پیداوار انہیں دی جایا کرے گی ۔

#2721sahih-bukhari · 55

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَحَقُّ الشُّرُوطِ أَنْ تُوفُوا بِهِ مَا اسْتَحْلَلْتُمْ بِهِ الْفُرُوجَ ‏"‏‏.‏

Narrated `Uqba bin Amir رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "From among all the conditions which you have to fulfill, the conditions which make it legal for you to have sexual relations (i.e. the marriage contract) have the greatest right to be fulfilled."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا ، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، وہ شرطیں جن کے ذریعہ تم نے عورتوں کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے(یعنی عقد نکاح) ، پوری کی جانے کی سب سے زیادہ مستحق ہیں ۔