Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#5545sahih-bukhari · 74

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ الإِيَامِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نُصَلِّيَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، مَنْ فَعَلَهُ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلُ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لأَهْلِهِ، لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَىْءٍ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَقَدْ ذَبَحَ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اذْبَحْهَا وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ مُطَرِّفٌ عَنْ عَامِرٍ عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ مَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏‏.‏

Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said (on the day of Idal-Adha), "The first thing we will do on this day of ours, is to offer the (`Id) prayer and then return to slaughter the sacrifice. Whoever does so, he acted according to our Sunna (tradition), and whoever slaughtered (the sacrifice) before the prayer, what he offered was just meat he presented to his family, and that will not be considered as Nusak (sacrifice)." (On hearing that) Abu Burda bin Niyar رضی اللہ عنہ got up, for he had slaughtered the sacrifice before the prayer, and said, "I have got a six month old ram." The Prophet (ﷺ) said, 'Slaughter it (as a sacrifice) but it will not be sufficient for any-one else (as a sacrifice after you). Al-Bara' رضی اللہ عنہ added: The Prophet (ﷺ) said, "Whoever slaughtered (the sacrifice) after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims."

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے زبید ایامی نے ، ان سے شعبی نے اور ان سے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآج ( عیدالاضحی کے دن ) کی ابتداء ہم نماز ( عید ) سے کریں گے پھر واپس آ کر قربانی کریں گے جو اس طرح کرے گا وہ ہماری سنت کے مطابق کرے گا لیکن جو شخص ( نمازعید سے ) پہلے ذبح کرے گا تو اس کی حیثیت صرف گوشت کی ہو گی جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کر لیا ہے قربانی وہ قطعاًبھی نہیں ۔ اس پر ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے ( نمازعید سے پہلے ہی ) ذبح کر لیا تھا اور عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال سے کم عمر کا بکرا ہے ( کیا اس کی دوبارہ قربانی ا ب نماز کے بعد کر لوں ؟ ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قربانی کر لو لیکن تمہارے بعد یہ کسی اور کے لیے کافی نہیں ہو گا ۔ مطرف نے عامر سے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نمازعید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہو گی اور اس نے مسلمانوں کی سنت کے مطابق عمل کیا ۔

#5546sahih-bukhari · 74

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَإِنَّمَا ذَبَحَ لِنَفْسِهِ، وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلاَةِ فَقَدْ تَمَّ نُسُكُهُ، وَأَصَابَ سُنَّةَ الْمُسْلِمِينَ ‏"‏‏.‏

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Whoever slaughtered the sacrifice before the prayer, he just slaughtered it for himself, and whoever slaughtered it after the prayer, he slaughtered it at the right time and followed the tradition of the Muslims."

Urdu

ہم سے مسددنے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے نمازعید سے پہلے قربانی کر لی اس نے اپنی ذات کے لیے جانور ذبح کیا اور جس نے نمازعید کے بعد قربانی کی اس کی قربانی پوری ہوئی ۔ اس نے مسلمانوں کی سنت کو پا لیا ۔

#5547sahih-bukhari · 74

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ بَعْجَةَ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، قَالَ قَسَمَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَصْحَابِهِ ضَحَايَا، فَصَارَتْ لِعُقْبَةَ جَذَعَةٌ‏.‏ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَارَتْ جَذَعَةٌ‏.‏ قَالَ ‏ "‏ ضَحِّ بِهَا ‏"‏‏.‏

Narrated `Uqba bin 'Amir Al-Juhani رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) distributed among his companions some animals for sacrifice (to be slaughtered on `Id-al-Adha). `Uqba's share was a Jadha'a (a six month old goat). `Uqba said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I get in my share of Jadha'a (a six month old ram)." The Prophet (ﷺ) said, "Slaughter it as a sacrifice."

Urdu

ہم سے معاذ بن فضالہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ نے اور ان سے بعجہ الجہنی نے اور ان سے عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ میں قربانی کے جانور تقسیم کئے ۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کے حصہ میں ایک سال سے کم کا بکری کا بچہ آیا ۔ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میرے حصہ میں تو ایک سال سے کم کا بچہ آیا ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم اسی کو قربانی کر لو ۔

#5548sahih-bukhari · 74

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم دَخَلَ عَلَيْهَا وَحَاضَتْ بِسَرِفَ، قَبْلَ أَنْ تَدْخُلَ مَكَّةَ وَهْىَ تَبْكِي فَقَالَ ‏"‏ مَا لَكِ أَنَفِسْتِ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، فَاقْضِي مَا يَقْضِي الْحَاجُّ غَيْرَ أَنْ لاَ تَطُوفِي بِالْبَيْتِ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا كُنَّا بِمِنًى أُتِيتُ بِلَحْمِ بَقَرٍ، فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالُوا ضَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَزْوَاجِهِ بِالْبَقَرِ‏.‏

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

The Prophet (ﷺ) entered upon her when she had her menses at Sarif before entering Mecca, and she was weeping (because she was afraid that she would not be able to perform the Hajj). The Prophet (ﷺ) said, "What is wrong with you? Have you got your period?" She said, "Yes." He said, "This is a matter Allah has decreed for all the daughters of Adam, so perform all the ceremonies of Hajj like the others, but do not perform the Tawaf around the Ka`ba." `Aisha رضی اللہ عنہا added: When we were at Mina, beef was brought to me and I asked, "What is this?" They (the people) said, "Allah's Messenger (ﷺ) has slaughtered some cows as sacrifices on behalf of his wives."

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ، ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) ان کے پاس آئے وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے سے پہلے مقام سرف میں حائضہ ہو گئی تھیں ۔ اس وقت آپ رو رہی تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے کیا تمہیں حیض کا خون آنے لگا ہے ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی بیٹیوں کے مقدر میں لکھ دیا ہے ۔ تم حاجیوں کی طرح تمام اعمال حج ادا کر لو بس بیت اللہ کا طواف نہ کرو ، پھر جب ہم منیٰ میں تھے تو ہمارے پاس گائے کا گوشت لایا گیا ۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گائے کی قربانی کی ہے ۔

#5549sahih-bukhari · 74

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ النَّحْرِ ‏ "‏ مَنْ كَانَ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلاَةِ فَلْيُعِدْ ‏"‏‏.‏ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا يَوْمٌ يُشْتَهَى فِيهِ اللَّحْمُ ـ وَذَكَرَ جِيرَانَهُ ـ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ شَاتَىْ لَحْمٍ‏.‏ فَرَخَّصَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَلاَ أَدْرِي أَبَلَغَتِ الرُّخْصَةُ مَنْ سِوَاهُ أَمْ لاَ، ثُمَّ انْكَفَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلَى كَبْشَيْنِ فَذَبَحَهُمَا، وَقَامَ النَّاسُ إِلَى غُنَيْمَةٍ فَتَوَزَّعُوهَا أَوْ قَالَ فَتَجَزَّعُوهَا‏.‏

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said on the day of Nahr, "Whoever has slaughtered his sacrifice before the prayer, should repeat it (slaughter another sacrifice)." A man got up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This is a day on which meat is desired." He then mentioned his neighbors saying, "I have a six month old ram which is to me better than the meat of two sheep." The Prophet (ﷺ) allowed him to slaughter it as a sacrifice, but I do not know whether this permission was valid for other than that man or not. The Prophet (ﷺ) then went towards two rams and slaughtered them, and then the people went towards some sheep and distributed them among themselves.

Urdu

ہم سے صدقہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی ، انہیں ایوب نے ، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن فرمایا کہ جس نے نمازعید سے پہلے قربانی ذبح کر لی ہے وہ دوبارہ قربانی کرے اس پر ایک صاحب نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ وہ دن ہے جس میں گوشت کھانے کی خواہش ہوتی ہے پھر انہوں نے اپنے پڑوسیوں کا ذکر کیا اور ( کہا کہ ) میرے پاس ایک سا ل سے کم کا بکری کا بچہ ہے جس کا گوشت دو بکریوں کے گوشت سے بہتر ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت دے دی ۔ مجھے نہیں معلوم کہ یہ اجازت دوسروں کو بھی ہے یا نہیں ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی طرف مڑے اور انہیں ذبح کیا پھر لوگ بکریوں کی طرف بڑھے اور انہیں تقسیم کر کے ( ذبح کیا ) ۔

#5550sahih-bukhari · 74

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ الزَّمَانُ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ، السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا، مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ، ثَلاَثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ، وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ، أَىُّ شَهْرٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ أَىُّ بَلَدٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ‏.‏ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ، قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ الْبَلْدَةَ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَىُّ يَوْمٍ هَذَا ‏"‏‏.‏ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ سَيُسَمِّيهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ ‏"‏ أَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا بَلَى‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ وَأَمْوَالَكُمْ ـ قَالَ مُحَمَّدٌ وَأَحْسِبُهُ قَالَ ـ وَأَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا فِي شَهْرِكُمْ، وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْأَلُكُمْ عَنْ أَعْمَالِكُمْ، أَلاَ فَلاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي ضُلاَّلاً، يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، أَلاَ لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ، فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يَبْلُغُهُ أَنْ يَكُونَ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ـ وَكَانَ مُحَمَّدٌ إِذَا ذَكَرَهُ قَالَ صَدَقَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ قَالَ ـ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ أَلاَ هَلْ بَلَّغْتُ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Bakra رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Time has come back to its original state which it had on the day Allah created the Heavens and the Earth. The year is twelve months, four of which are sacred, three of them are in succession, namely Dhul-Qa'da, Dhul Hijja and Muharram, (the fourth being) Rajab Mudar which is between Juma'da (ath-thamj and Sha'ban. The Prophet (ﷺ) then asked, "Which month is this?" We said, "Allah and his Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it by a name other than its real name. He said, "Isn't it the month of Dhul-Hijja?" We said, "Yes." He said, "Which town is this?" We said, "Allah and His Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it t,y a name other than its real name. He said, "isn't it the town (of Mecca)?" We replied, "Yes." He said, "What day is today?" We replied, "Allah and His Apostle know better." He kept silent so long that we thought that he would call it by a name other than its real name. He said, "Isn't it the day of Nahr?" We replied, "Yes." He then said, "Your blood, properties and honor are as sacred to one another as this day of yours in this town of yours in this month of yours. You will meet your Lord, and He will ask you about your deeds. Beware! Do not go astray after me by cutting the necks of each other. It is incumbent upon those who are present to convey this message to those who are absent, for some of those to whom it is conveyed may comprehend it better than some of those who have heard it directly." (Muhammad, the sub-narrator, on mentioning this used to say: The Prophet then said, "No doubt! Haven't I delivered (Allah's) Message (to you)? Haven't I delivered Allah's message (to you)?"

Urdu

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، کہا ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے ، ان سے ابن ابی بکر ہ نے اور ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ! زمانہ پھر کر اسی حالت پر آ گیا ہے جس حالت پر اس دن تھا جس دن اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین پیدا کئے تھے ۔ سال بارہ مہینہ کا ہوتا ہے ان میں چار حرمت کے مہینے ہیں ، تین پے درپے ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم اور ایک مضر کا رجب جو جمادی الاخریٰ اور شعبان کے درمیان میں پڑتا ہے ( پھر آپ نے دریافت فرمایا ) یہ کون سا مہینہ ہے ، ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں ۔ آپ خاموش ہو گئے ۔ ہم نے سمجھا کہ شاید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ ذی الحجہ نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا ذی الحجہ ہی ہے ۔ پھر فرمایا یہ کون سا شہر ہے ؟ ہم نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا زیادہ علم ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ شاید آپ اس کا کوئی اور نام رکھیں گے لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ بلدہ ( مکہ مکرمہ ) نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ۔ پھر آپ نے دریافت فرمایا یہ دن کون سا ہے ؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو اس کا بہتر علم ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے اور ہم نے سمجھا کہ آپ اس کا کوئی اور نام تجویز کریں گے لیکن آپ نے فرمایا کیا یہ قربانی کا دن ( یوم النحر ) نہیں ہے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں ! پھر آپ نے فرمایا پس تمہارا خون ، تمہارے اموال ۔ محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ میرا خیال ہے کہ ( ابن ابی بکرہ نے ) یہ بھی کہا کہ ” اور تمہاری عزت تم پر ( ایک کی دوسرے پر ) اس طرح با حرمت ہیں جس طرح اس دن کی حرمت تمہارے اس شہر میں اور اس مہینہ میں ہے اور عنقریب اپنے رب سے ملو گے اس وقت وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا آ گاہ ہو جاؤ میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا کہ تم میں سے بعض بعض دوسرے کی گردن مارنے لگے ۔ ہاں جو یہاں موجود ہیں وہ ( میرا یہ پیغام ) غیر موجود لوگوں کو پہنچا دیں ۔ ممکن ہے کہ بعض وہ جنہیں یہ پیغام پہنچایا جائے بعض ان سے زیادہ اسے محفوظ کرنے والے ہوں جو اسے سن رہے ہیں ۔ اس پر محمد بن سیرین کہا کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے ( اس کا پیغام تم کو ) پہنچا دیا ہے ۔ آگاہ ہو جاؤ کیا میں نے پہنچا دیا ہے ؟

#5551sahih-bukhari · 74

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَنْحَرُ فِي الْمَنْحَرِ‏.‏ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي مَنْحَرَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏

Narrated Nafi':

Abdullah (bin 'Umar رضی اللہ عنہما) would slaughter at the alter. Obaidullah narrates: There where the prophet ﷺ would make sacrifice.

Urdu

ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا ، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا اور ان سے نافع نے بیان کیاکہ

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قربان گاہ میں نحر کیا کرتے تھے اور عبیداللہ نے بیان کیا کہ مراد وہ جگہ ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قربانی کرتے تھے ۔

#5552sahih-bukhari · 74

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَخْبَرَهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَذْبَحُ وَيَنْحَرُ بِالْمُصَلَّى‏.‏

Narrated Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما :

"Allah's Messenger (ﷺ) used to slaughter (camels and sheep, etc.,) as sacrifices at the Musalla."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے کثیر بن فرقد نے ، ان سے نافع نے اور انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( قربانی ) ذبح اور نحر عیدگاہ میں کیا کرتے تھے ۔

#5553sahih-bukhari · 74

حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ وَأَنَا أُضَحِّي بِكَبْشَيْنِ‏.‏

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) used to offer two rams as sacrifices, and I also used to offer two rams.

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انہوں نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو مینڈھوں کی قربانی کرتے تھے اور میں بھی دو مینڈھوں کی قربانی کرتا تھا ۔

#5554sahih-bukhari · 74

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم انْكَفَأَ إِلَى كَبْشَيْنِ أَقْرَنَيْنِ أَمْلَحَيْنِ فَذَبَحَهُمَا بِيَدِهِ‏.‏ تَابَعَهُ وُهَيْبٌ عَنْ أَيُّوبَ‏.‏ وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ وَحَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ عَنْ أَيُّوبَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ‏.‏

Narrated Anas رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) came towards two horned rams having black and white colors and slaughtered them with his own hands. Wahaib has reported likewise from Ayyub. Ismail, Hatim bin Wardan, Ayyub and Ibn-e-Sireen reported it from Hadrat Anas رضی اللہ عنہ .

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا ، ان سے ایوب نے ، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا ۔ اس کی متابعت وہیب نے کی ، ان سے ایوب نے اور اسماعیل اور حاکم بن وردان نے بیان کیا کہ ان سے ایوب نے ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ۔