Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#6594sahih-bukhari · 83

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَنْبَأَنِي سُلَيْمَانُ الأَعْمَشُ، قَالَ سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ قَالَ ‏ "‏ إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعٍ بِرِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَشَقِيٌّ، أَوْ سَعِيدٌ، فَوَاللَّهِ إِنَّ أَحَدَكُمْ ـ أَوِ الرَّجُلَ ـ يَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا غَيْرُ بَاعٍ أَوْ ذِرَاعٍ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَدْخُلُهَا، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا غَيْرُ ذِرَاعٍ أَوْ ذِرَاعَيْنِ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فَيَدْخُلُهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ آدَمُ إِلاَّ ذِرَاعٌ‏.‏

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ), the truthful and truly-inspired, said, "Each one of you collected in the womb of his mother for forty days, and then turns into a clot for an equal period (of forty days) and turns into a piece of flesh for a similar period (of forty days) and then Allah sends an angel and orders him to write four things, i.e., his provision, his age, and whether he will be of the wretched or the blessed (in the Hereafter). Then the soul is breathed into him. And by Allah, a person among you (or a man) may do deeds of the people of the Fire till there is only a cubit or an arm-breadth distance between him and the Fire, but then that writing (which Allah has ordered the angel to write) precedes, and he does the deeds of the people of Paradise and enters it; and a man may do the deeds of the people of Paradise till there is only a cubit or two between him and Paradise, and then that writing precedes and he does the deeds of the people of the Fire and enters it." Adam, the transmitter, says: Only a distance of one cubit.

Urdu

ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا مجھ کو سلیمان اعمش نے خبر دی ، کہا کہ میں نے زید بن وہب سے سنا ، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

ہم کو رسول اللہ نے بیان سنایا اور آپ سچوں کے سچے تھے اور آپ کی سچائی کی زبردست گواہی دی گئی ۔ فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص پہلے اپنی ماں کے پیٹ میں چالیس دن تک نطفہ ہی رکھا جاتا ہے ۔ پھر اتنی ہی مدت میں ” علقہ “ یعنی خون کی پھٹکی ( بستہ خون ) بنتا ہے پھر اتنے ہی عرصہ میں ” مضغہ “ ( یعنی گوشت کا لوتھڑا ) پھر چار ماہ بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اس کے بارے میں ( ماں کے پیٹ ہی میں ) چار باتوں کے لکھنے کا حکم دیا جاتا ہے ۔ اس کی روزی کا ، اس کی موت کا ، اس کا کہ وہ بدبخت ہے یا نیک بخت ۔ پس واللہ ، تم میں سے ایک شخص دوزخ والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک بالشت کا فاصلہ یا ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ جنت والوں کے سے کام کرنے لگتا ہے اور جنت میں جاتا ہے ۔ اسی طرح ایک شخص جنت والوں کے سے کام کرتا رہتا ہے اور جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک ہاتھ کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر اس پر غالب آتی ہے اور وہ دوزخ والوں کے کام کرنے لگتا ہے اور دوزخ میں جاتا ہے ۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ آدم بن ابی ایاس نے اپنی روایت میں یوں کہا کہ جب ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے ۔

#6595sahih-bukhari · 83

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ وَكَّلَ اللَّهُ بِالرَّحِمِ مَلَكًا فَيَقُولُ أَىْ رَبِّ نُطْفَةٌ، أَىْ رَبِّ عَلَقَةٌ، أَىْ رَبِّ مُضْغَةٌ‏.‏ فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْضِيَ خَلْقَهَا قَالَ أَىْ رَبِّ ذَكَرٌ أَمْ أُنْثَى أَشَقِيٌّ أَمْ سَعِيدٌ فَمَا الرِّزْقُ فَمَا الأَجَلُ فَيُكْتَبُ كَذَلِكَ فِي بَطْنِ أُمِّهِ ‏"‏‏.‏

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "Allah puts an angel in charge of the uterus and the angel says, 'O Lord, (it is) semen! O Lord, (it is now ) a clot! O Lord, (it is now) a piece of flesh.' And then, if Allah wishes to complete its creation, the angel asks, 'O Lord, (will it be) a male or a female? A wretched (an evil doer) or a blessed (doer of good)? How much will his provisions be? What will his age be?' So all that is written while the creature is still in the mother's womb."

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا ، ان سے عبیداللہ بن ابوبکر بن انس نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر دیا ہے اور وہ کہتا رہتا ہے کہ اے رب ! یہ نطفہ قرار پایا ہے ۔ اے رب ! اب علقہ یعنی جما ہوا خون بن گیا ہے ۔ اے رب ! اب مضغہ ( گوشت کا لوتھڑا ) بن گیا ہے ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری کرے تو وہ پوچھتا ہے اے رب لڑکا ہے یا لڑکی ؟ نیک ہے یا برا ؟ اس کی روزی کیا ہو گی ؟ اس کی موت کب ہو گی ؟ اسی طرح یہ سب باتیں ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں ۔ دنیا میں اسی کے مطابق ظاہر ہوتا ہے ۔

#6596sahih-bukhari · 83

حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الرِّشْكُ، قَالَ سَمِعْتُ مُطَرِّفَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُعْرَفُ أَهْلُ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ قَالَ ‏"‏ نَعَمْ ‏"‏‏.‏ قَالَ فَلِمَ يَعْمَلُ الْعَامِلُونَ قَالَ ‏"‏كُلٌّ يَعْمَلُ لِمَا خُلِقَ لَهُ ـ أَوْ لِمَا يُسِّرَ لَهُ‏"‏ ‏.‏

Narrated `Imran bin Husain رضی اللہ عنہما :

A man said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Can the people of Paradise be known (differentiated) from the people of the Fire; The Prophet (ﷺ) replied, "Yes." The man said, "Why do people (try to) do (good) deeds?" The Prophet said, "Everyone will do the deeds for which he has been created to do or he will do those deeds which will be made easy for him to do." (i.e. everybody will find easy to do such deeds as will lead him to his destined place for which he has been created).

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید رشک نے بیان کیا ، انہوں نے مطرف بن عبداللہ بن شخیر سے سنا ، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے ، انہوں نے کہا کہ

ایک صاحب نے ( یعنی خود انہوں نے ) عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا جنت کے لوگ جہنمیوں میں سے پہچانے جا چکے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں “ انہوں نے کہا کہ پھر عمل کرنے والے کیوں عمل کریں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص وہی عمل کرتا ہے جس کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یا جس کے لیے اسے سہولت دی گئی ہے ۔

#6597sahih-bukhari · 83

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَوْلاَدِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ ‏ "‏ اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ‏"‏‏.‏

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) ; was asked about the offspring of the pagans. He said, "Allah knows what they would have done (were they to live).

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر محمد بن جعفر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے ابوبشر نے ، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ کو خوب معلوم ہے کہ وہ ( بڑے ہو کر ) کیا عمل کرتے ۔

#6598sahih-bukhari · 83

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ وَأَخْبَرَنِي عَطَاءُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ ‏{‏اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ ‏}‏

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) was asked about the offspring of the pagans. He said, "Allah knows what they would have done (were they to live)."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے عطابن یزید نے خبر دی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرتے ۔

#6sahih-bukhari · 83

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلاَّ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ، فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ، كَمَا تُنْتِجُونَ الْبَهِيمَةَ، هَلْ تَجِدُونَ فِيهَا مِنْ جَدْعَاءَ حَتَّى تَكُونُوا أَنْتُمْ تَجْدَعُونَهَا ‏"‏‏..‏قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَ مَنْ يَمُوتُ وَهْوَ صَغِيرٌ قَالَ ‏{‏اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ‏}‏

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "No child is born but has the Islamic Faith, but its parents turn it into a Jew or a Christian. It is as you help the animals give birth. Do you find among their offspring a mutilated one before you mutilate them yourself?" The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! What do you think about those (of them) who die young?" The Prophet (ﷺ) said, "Allah knows what they would have done (were they to live)."

Urdu

مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی بچہ ایسا نہیں ہے جو فطرت پر نہ پیدا ہوتا ہو ۔ لیکن اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں جیسا کہ تمہارے جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہیں ۔ کیا ان میں کوئی کن کٹا پیدا ہوتا ہے ؟ وہ تو تم ہی اس کا کان کاٹ دیتے ہو ۔لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو جوان مر جاتے ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جانتا ہے کہ وہ کیا کرتے (اگر وہ زندہ رہتے)۔

#6601sahih-bukhari · 83

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلاَقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَفْرِغَ صَحْفَتَهَا، وَلْتَنْكِحْ، فَإِنَّ لَهَا مَا قُدِّرَ لَهَا ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "No woman should ask for the divorce of her sister (Muslim) so as to take her place, but she should marry the man (without compelling him to divorce his other wife), for she will have nothing but what Allah has written for her."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوالزناد نے ، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی عورت اپنی کسی ( دینی ) بہن کی طلاق کا مطالبہ ( شوہر سے ) نہ کرے کہ اس کے گھر کو اپنے ہی لیے خاص کر لینا چاہے ۔ بلکہ اسے نکاح ( دوسری عورت کی موجودگی میں بھی ) کر لینا چاہئے کیونکہ اسے اتنا ہی ملے گا جتنا اس کے مقدر میں ہو گا ۔

#6602sahih-bukhari · 83

حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أُسَامَةَ، قَالَ كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم إِذْ جَاءَهُ رَسُولُ إِحْدَى بَنَاتِهِ وَعِنْدَهُ سَعْدٌ وَأُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَمُعَاذٌ أَنَّ ابْنَهَا يَجُودُ بِنَفْسِهِ‏.‏ فَبَعَثَ إِلَيْهَا ‏ "‏ لِلَّهِ مَا أَخَذَ، وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى، كُلٌّ بِأَجَلٍ، فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ ‏"‏‏.‏

Narrated Usama رضی اللہ عنہ :

Once while I was with the Prophet (ﷺ) and Sa`d, Ubai bin Ka`b and Mu`adh were also sitting with him, there came to him a messenger from one of his daughters, telling him that her child was on the verge of death. The Prophet (ﷺ) told the messenger to tell her, "It is for Allah what He takes, and it is for Allah what He gives, and everything has its fixed time (limit). So (she should) be patient and look for Allah's reward."

Urdu

ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے عاصم نے ، ان سے ابوعثمان نے اور ان سے اسامہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا کہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سے ایک کا بلاوا آیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سعد ، ابی بن کعب اور معاذ رضی اللہ عنہم موجود تھے ۔ بلانے والے نے آ کر کہا کہ ان کا بچہ ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نواسہ ) نزع کی حالت میں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلابھیجا کہ اللہ ہی کا ہے جو وہ لیتا ہے ، اس لیے وہ صبر کریں اور اللہ سے اجر کی امید رکھیں ۔

#6603sahih-bukhari · 83

حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَيْرِيزٍ الْجُمَحِيُّ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم جَاءَ رَجُلٌ مِنِ الأَنْصَارِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ سَبْيًا وَنُحِبُّ الْمَالَ، كَيْفَ تَرَى فِي الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ أَوَإِنَّكُمْ تَفْعَلُونَ ذَلِكَ، لاَ عَلَيْكُمْ أَنْ لاَ تَفْعَلُوا، فَإِنَّهُ لَيْسَتْ نَسَمَةٌ كَتَبَ اللَّهُ أَنْ تَخْرُجَ إِلاَّ هِيَ كَائِنَةٌ ‏"‏‏.‏

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

While he was sitting with the Prophet (ﷺ) a man from the Ansar came and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! We get slave girls from the war captives and we love property; what do you think about coitus interruptus?" Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do you do that? It is better for you not to do it, for there is no soul which Allah has ordained to come into existence but will be created."

Urdu

ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو یونس نے خبر دی ، انہیں زہری نے کہا کہ ہم کو عبداللہ بن محیریز جمحی نے خبر دی ، انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ

وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ قبیلہ انصار کا ایک آدمی آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم لونڈیوں سے ہمبستری کرتے ہیں اورمال سے محبت کرتے ہیں ۔ آپ کا عزل کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا تم ایسا کرتے ہو ، تمہارے لیے کچھ قباحت نہیں اگر تم ایسا نہ کرو ، کیونکہ جس جان کی بھی پیدائش اللہ نے لکھ دی ہے وہ ضرور پیدا ہو کر رہے گی ۔

#6604sahih-bukhari · 83

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ لَقَدْ خَطَبَنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم خُطْبَةً، مَا تَرَكَ فِيهَا شَيْئًا إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلاَّ ذَكَرَهُ، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ، إِنْ كُنْتُ لأَرَى الشَّىْءَ قَدْ نَسِيتُ، فَأَعْرِفُ مَا يَعْرِفُ الرَّجُلُ إِذَا غَابَ عَنْهُ فَرَآهُ فَعَرَفَهُ‏.‏

Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) once delivered a speech in front of us wherein he left nothing but mentioned (about) everything that would happen till the Hour. Some of us stored that our minds and some forgot it. (After that speech) I used to see events taking place (which had been referred to in that speech) but I had forgotten them (before their occurrence). Then I would recognize such events as a man recognizes another man who has been absent and then sees and recognizes him.

Urdu

ہم سے موسیٰ بن مسعود نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے ابووائل نے اور ان سے حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک خطبہ دیا اور قیامت تک کوئی ( دینی ) چیز ایسی نہیں چھوڑی جس کا بیان نہ کیا ہو ، جسے یاد رکھنا تھا اس نے یاد رکھا اور جسے بھولنا تھا وہ بھول گیا ، جب میں ان کی کوئی چیز دیکھتا ہوں جسے میں بھول چکا ہوں تو اس طرح اسے پہچان لیتا ہوں جس طرح وہ شخص جس کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو کہ جب وہ اسے دیکھتا ہے تو فوراً پہچان لیتا ہے ۔