Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#2089sahih-muslim · 11

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَكَبِّرُوا وَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ.

A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:

There was a solar eclipse in the time of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). He stood up to pray and prolonged his stand very much. He then bowed and prolonged very much his bowing. He then raised his head and prolonged his stand much, but it was less than the (duration) of the first stand. He then bowed and prolonged bowing much, but it was less than the duration of his first bowing. He then prostrated and then stood up and prolonged the stand, but it was less than the first stand. He then bowed and prolonged his bowing, but it was less than the first bowing. He then lifted his head and then stood up and prolonged his stand, but it was less than the first stand. He then bowed and prolonged bowing and it was less than the first bowing. He then prostrated himself; then he turned about, and the sun had become bright, and he addressed the people. He praised Allah and landed Him and said: The sun and the moon are two signs of Allah; they are not eclipsed on account of anyones death or on account of anyone's birth. So when you see them, glorify and supplicate Allah, observe prayer, give alms. O Ummah of Muhammad, none is more indignant than Allah When His servant or maid commits fornication. O people of Muhammad, by Allah, if you knew what I know, you would weep much and laugh little.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, امام مالک بن انس اور عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد عروہ سے حدیث سنا ئی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی ، انھوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زما نے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے قیام فر ما یا اور بہت ہی لمبا قیام کیا ، پھر آپ نے رکو ع کیا تو انتہا ئی طویل رکوع کیا پھر آپ نے سر اٹھا یا تو انتہائی طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے ( کچھ ) کم تھا پھر آپ نے ( دوبارہ ) رکو ع کیا تو بہت لمبا رکو ع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے سجدے کیے پھر آپ کھڑے ہو گئے اور قیام کو لمبا کیا وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے اپنا سر اٹھا یا اور قیا م کیا تو بہت لمبا قیام کیا جبکہ وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا تو انتہائی طویل رکوع کیا لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدے کیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( نماز سے فارغ ہو کر ) پلٹے تو سورج روشن ہو چکا تھا اور آپ نے لو گو ں سے خطا ب فر ما یا اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی ، پھر فر ما یا : "" بے شک سورج اور چاند اللہ تعا لیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں ان کو کسی کی مو ت یا زند گی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا جب تم انھیں ( اس حالت میں ) دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو اللہ تعا لیٰ سے دعا مانگو نماز پڑھو اور صدقہ کرو اے اُمت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو ئی نہیں جو ( اس بات پر ) اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت رکھنے والا ہو کہ اس کا بندہ یا اس کی باندی زنا کرے !اے اُمت محمد!اللہ کی قسم !اگر تم ان باتوں کو جان لو جن کو میں جا نتا ہوں ۔ تو تم بہت زیادہ روؤاور بہت کم ہنسو ۔ دیکھو !کیا میں نے ( پیغام ) اچھی طرح پہنچا دیا ؟ "" اور امام مالک کی روایت میں ہے : "" یقیناً سورج اور چاند اللہ تعا لیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ۔

#2090sahih-muslim · 11

و حَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ وَزَادَ أَيْضًا ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ.

This hadith has been narrated by Hisham bin 'Urwa with the same chain of transmitters but with this addition:

Verily the sun and the moon are among the signs of Allah. And similarly this addition was made: He then lifted his hands and said: O Allah! have I not conveyed it?

Urdu

اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا, ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) روایت کی اور اس میں یہ اضافہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا

" امابعد ( حمد و صلاۃ کے بعد ) !بلا شبہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دونشانیاں ہیں ۔ " اور یہ بھی اضافہ کیا : پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھا اٹھا ئے اور فر ما یا : " اے اللہ !کیا میں نے ( پیغام ) اچھی طرح پہنچا دیا ؟ "

#2091sahih-muslim · 11

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ خَسَفَتْ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَقَامَ وَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنْ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنْ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ ثُمَّ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ثُمَّ سَجَدَ وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى اسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ وَانْجَلَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ وَقَالَ أَيْضًا فَصَلُّوا حَتَّى يُفَرِّجَ اللَّهُ عَنْكُمْ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنْ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أُقَدِّمُ و قَالَ الْمُرَادِيُّ أَتَقَدَّمُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.

A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا , the wife of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), reported:

There was an eclipse of the sun during the lifetime of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). So, the Messenger of Allah (may peace he upon him) went to the mosque and stood up and glorified Allah, and the people formed themselves in rows behind him. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) made a long recital (of the Qur'an) and then pronounced takbir and then observed a long ruku'. He then raised his head and said: Allah listened to him who praised Him: our Lord, praise is due to Thee. He then again stood up and made a long recital, which was less than the first recital. He pronounced takbir and observed a long ruku', and it was less than the first one. He again said: Allah listened to him who praised Him; our Lord, praise is due to Thee. (Abu Tahir, one of the narrators) made no mention of: He then prostrated himself. He did like this in the second rak'ah, till he completed four rak'ahs and four prostrations and the sun became bright before he deported. He then stood up and addressed people, after lauding Allah as He deserved, and then said: The sun and the moon are two signs among the signs of Allah These do not eclipse either on the death of anyone or on his birth. So when you see them, hasten to prayer. He also said this: Observe prayer till Allah dispels the anxiety (of this extraordinary phenomenon) from you. The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: I saw in my place everything which you have been promised. I even saw myself desiring to pluck a bunch (of grapes) from Paradise (and it was at the time) when you saw me moving forward. And I saw Hell and some of its parts crushing the others, when you saw me moving back; and I saw in it Ibn Luhayy and he was the person who made the she-camels loiter about. In the hadith transmitted by Abu Tahir the words are: He hastened to prayer, and he made no mention of what follows.

Urdu

حرملہ بن یحییٰ نے مجھے حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے ابن وہب نے یونس سے خبر دی نیز ابو طاہر اور محمد بن سلمہ مرادی نے کہا : ابن وہب نے یو نس سے حدیث بیان کی انھوں نے ابن شہاب سے روا یت کی انھوں نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ

میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر مسجد میں تشریف لے گئے آپ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور تکبیر کہی اور لو گ آپ کے پیچھے صف بستہ ہو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قراءت فر ما ئی پھر آپ نےالله اكبرکہا اور ایک لمبا رکو ع کیا پھر آپ نے اپنا سر اٹھا یا اور سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد کہا پھر آپ نے قیام کیا اور ایک طویل قراءت کی یہ پہلی ( قراءت ) سے کچھ کم تھی پھر الله اكبرکہا اور کہہ کر طویل رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا پھر سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد کہا پھر سجدہ کیا اور ابو طاہر نے ( ثم سجده ) ( پھر آپنے سجدہ کیا ) کے الفا ظ نہیں کہے ۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا حتیٰ کہ چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو گیا پھر آپ کھڑے ہو ئے اور لو گوں کو خطاب فر ما یا اور اللہ تعا لیٰ کی ( ایسی ) ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی پھر فر ما یا "" سورج اور چاند اللہ تعا لیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں انھیں کسی کی مو ت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے جب تم انھیں ( گرہن میں ) دیکھو تو فوراًنماز کی طرف لپکو ۔ "" آپ نے یہ بھی فر ما یا : "" اور نماز پڑھتے رہو یہاں تک کہ اللہ تمھارے لیے کشادگی کر دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" میں نے اپنی اس جگہ ( پر ہو تے ہو ئے ) ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت کا ایک گچھا لینا چاہتا ہوں اس وقت جب تم نے مجھے دیکھا تھا کہ میں قدم آگے بڑھا رہا ہوں ۔ اور ( محمد بن سلمہ ) مرادی نے "" آگے بڑھ رہا ہوں "" کہا ۔ ۔ ۔ اور میں نے جہنم بھی دیکھی اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو ریزہ ریزہ کر رہا تھا یہ اس وقت جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا ۔ اور میں نے جہنم میں عمرو بن لحی کو دیکھا جس نے سب سے پہلے بتوں کی نذر کی اونٹنیاں چھوڑیں ۔ "" ابو طا ہر کی روایت "" نماز کی طرف لپکو پر ختم ہو گئی انھوں نے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔

#2092sahih-muslim · 11

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ أَبُو عَمْرٍو وَغَيْرُهُ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ مُنَادِيًا الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعُوا وَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ وَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ.

A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:

There was a solar eclipse during the lifetime of the Messenger of Allah (way peace be upon him) and he sent the announcer (to summon them) for congregational prayer. The people gathered together and he pronounced takbir and he observed four rak'ahs, in the form of two rak'ahs (i. e. he observed two qiyams and two ruku's in one rak'ah) and four prostrations.

Urdu

ہم سے محمد بن مہران رازی نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابو عمرو اوزاعی اور ان کے علاوہ د وسرے ( راوی ، دونوں میں سے ہرایک ) نے کہا : میں نے ابن شہاب زہری سے سنا ، وہ عروہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کوگرہن لگ گیا تو آپ نے یہ اعلان کرنے والا ( ایک شخص ) بھیجاکہ " کہ نماز جمع کرنے والی ہے ۔ اس پر لوگ جمع ہوگئے ، آپ آگے بڑھے ، تکبیر تحریمہ کہی اور چار رکوعوں اور چار سجدوں کےساتھ دو رکعتیں پڑھیں ۔

#2093sahih-muslim · 11

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يُخْبِرُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَهَرَ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ.

A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) recited loudly in the eclipse prayer, and he observed four rak'ahs in the form of two rak'ahs and four prostrations.

Urdu

ہم سے محمد بن مہران نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا عبدالرحمن بن نمر نے خبر دی کہ انھوں نے ابن شہاب سے سنا ، وہ عروہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃ الخسوف ( چاند یاسورج گرہن کی نماز ) میں بلند آوازسے قراءت کی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کرکے نماز ادا کی ۔

#2094sahih-muslim · 11

قَالَ الزُّهْرِيُّ وَأَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ.

It was narrated that Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ :

The prophet ﷺ prayed with four bowing and four prostration in two Rakah.

Urdu

( عبدالرحمان بن نمر نے ہی کہا : ) زہری نے کہا کثیر بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( اپنے بھائی حضرت عبداللہ ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ

آپ نے دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کئے ۔

#2095sahih-muslim · 11

و حَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَ عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ.

It was narrated that Kasir Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ :

Ibn Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ used to narrate a narration similar to that of Urwah from Aishah رضی اللہ تعالیٰ عنہا concerning the prayer of the Messenger of Allah ﷺ on the day of the sun was eclipsed.

Urdu

ہم سے حاجب بن ولید نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا, محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کثیر بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیث بیان کرتے تھےکہ

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سورج گرہن والے دن کی نماز ( اسی طرح ) بیان کرتےتھے جس طرح عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان کی ۔

#2096sahih-muslim · 11

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ قَائِمًا ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ وَكَانَ إِذَا رَكَعَ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَرْكَعُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللَّهِ يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا فَاذْكُرُوا اللَّهَ حَتَّى يَنْجَلِيَا.

It was narrated from 'Ata': Ubaid bin Umair said:

'One whom I regard as truthful' - I think he meant Aishah told me that the sun was eclipsed at the time of Messenger of Allah ﷺ and he stood for a very long time: "He stood then he bowed, then he stood, then he bowed, then he stood, then he bowed; two Rakah with three bowings and four prostrations. When he finished the eclipsed had ended. When he bowed he said: "Allahu Akbar," When he raised his head he said: Sami Allahu liman Hamidah (Allah hears those who praised him)." Then he stood and praised and glorified Allah, then he said: the sun and the moon do not become eclipsed for death or birth of anyone. Rather they are sings of Allah with which Allah create fear in his slaves, so If you see them being them being eclised, rememer of Allah until the eclipse all over."

Urdu

اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بکر نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا, ابن جریج نے کہا : میں نے عطاء ( بن ابی رباح ) کو کہتے ہوئے سنا : میں نے عبید بن عمیر سے سنا ، کہہ رہے تھے

مجھ سے اس شخص نے حدیث بیان کی جنھیں میں سچا سمجھتاہوں ۔ ( عطاء نے کہا : ) میرا خیال ہے ان کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے تھی ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کوگرہن لگ گیا تو آپ نے بڑا پُر مشقت قیام کیا ۔ سیدھے کھڑے ہوتے ، پھر رکوع میں چلے جاتے ، پھرکھڑے ہوتے ۔ پھر رکوع کرتے ، پھر کھڑے ہوتے پھر رکوع کرتے ، دو رکعتیں ( تین ) تین رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھیں ، پھر آپ نے سلام پھیر ا تو سورج روشن ہوچکا تھا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کرتے تو الله اكبرکہا کہتے اس کے بعد جب رکوع کرتے اور جب سر اٹھاتے تو " سمع الله لمن حمده " کہتے ۔ اسکے بعد آپ ( خطبہ کے لئے ) کھڑے ہوئے ۔ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " سورج اور چاند نہ کسی کی موت پر بےنور ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کی زندگی پر بلکہ وہ اللہ کی نشانیاں ہیں ، ان کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے ، جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کو یاد کرو حتیٰ کہ وہ روشن ہوجائیں ۔ "

#2097sahih-muslim · 11

و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ.

It was narrated from Aishah رضی اللہ عنہا :

The Messenger of Allah prayed with six bowings and four prostration.

Urdu

مجھ سے ابو غسان المسماعی اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا: معاذ، جو ابن ہشام ہیں، نے بیان کیا: مجھ سے میرے والد نے، قتادہ کی سند سے، عطاء بن ابی کی سند سے بیان کیا۔ عبید بن عمیر, عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ رکعتیں اور چار سجدے پڑھے۔

#2098sahih-muslim · 11

و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَى عَنْ عَمْرَةَ أَنَّ يَهُودِيَّةً أَتَتْ عَائِشَةَ تَسْأَلُهَا فَقَالَتْ أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يُعَذَّبُ النَّاسُ فِي الْقُبُورِ قَالَتْ عَمْرَةُ فَقَالَتْ عَائِشَةُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَائِذًا بِاللَّهِ ثُمَّ رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاةٍ مَرْكَبًا فَخَسَفَتْ الشَّمْسُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ ظَهْرَيْ الْحُجَرِ فِي الْمَسْجِدِ فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى مُصَلَّاهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي فِيهِ فَقَامَ وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِيَامًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا وَهُوَ دُونَ ذَلِكَ الرُّكُوعِ ثُمَّ رَفَعَ وَقَدْ تَجَلَّتْ الشَّمْسُ فَقَالَ إِنِّي قَدْ رَأَيْتُكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ كَفِتْنَةِ الدَّجَّالِ قَالَتْ عَمْرَةُ فَسَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ فَكُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ يَتَعَوَّذُ مِنْ عَذَابِ النَّارِ وَعَذَابِ الْقَبْرِ.

May Allah protect you from the torment of the grave! 'A'isha رضی اللہ عنہا said:

Messenger of Allah, would people be tormented in the graves? The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: (May there be) protection of Allah! The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) mounted one morning on the ride, and the sun eclipsed. 'A'isha رضی اللہ عنہا said: I came in the company of the women in the mosque from behind the rooms. The Messenger of Allah (way peace he upon him) dismounted from his ride and came to the place of worship where he used to pray. He stood up (to pray) and the people stood behind him. 'A'isha رضی اللہ عنہا said: He stood for a long time. He then bowed and it was a long ruku'. He then raised his head and he stood for a long time, less than the first standing. He then bowed and his ruku' was long, but it was less than that (the first) ruku'. He then raised (his head) and the sun had become bright. He (the Holy Prophet) then said: I saw you under trial in the grave like the turmoil of Dajjal. 'Amra said: I heard 'A'isha رضی اللہ عنہا say: I listened after this to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) seeking refuge from the torment of Fire and the torment of the grave.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ القعنبی نے بیان کیا, سلیمان بن بلال نے یحییٰ ( بن سعید ) سے اور انھوں نے عمرہ سے روایت کی کہ ایک یہودی عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس مانگنے کے لئے آئی ۔ اس نے آکر ( کہا : اللہ آپ کو عذاب قبر سے پناہ دے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے کہا

اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !لوگوں کو قبرمیں عذاب ہوگا؟عمرہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں "" پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح کسی سواری پر سوار ہوکر نکلے تو سورج کوگرہن لگ گیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں بھی عورتوں کے سات حجروں کے درمیان سے نکل کر مسجد میں آئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے ( اتر کر ) نماز پڑھنے کی اس جگہ پرآئے جہاں آپ نماز پڑھایا کرتے تھے ، آپ کھڑے ہوگئے اور لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہوگئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : پھر آپ نے لمبا قیام کیا ، پھر رکوع کیا اور لمبا رکوع کیا ، پھر ( رکوع سے ) سر اٹھایا اور طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا ۔ اور پھر ( رکوع سے ) سر اٹھایا تو سورج روشن ہوچکا تھا ، پھر ( نماز سے فراغت کے بعد ) آپ نے فرمایا : "" میں نے تمھیں دیکھا ہے کہ تم قبروں میں دجال کی آزمائش کی طرح آزمائش میں ڈالے جاؤگے ۔ "" عمرہ نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کرتی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے پناہ مانگتے تھے ۔