Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#3568sahih-muslim · 18

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَهَا، وَإِنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِ حَفْصَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، هَذَا رَجُلٌ يَسْتَأْذِنُ فِي بَيْتِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُرَاهُ فُلَانًا» - لِعَمِّ حَفْصَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ - فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ كَانَ فُلَانٌ حَيًّا - لِعَمِّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ - دَخَلَ عَلَيَّ؟ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نَعَمْ، إِنَّ الرَّضَاعَةَ تُحَرِّمُ مَا تُحَرِّمُ الْوِلَادَةُ.

A'isha (رضی اللہ عنہا) reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) was with her and she heard the voice of a person seeking permission to enter the house of Hafsa رضی اللہ عنہا. 'A'isha (رضی اللہ عنہا) said: Allah's Messenger, he is the person who seeks permission to enter your house, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: I think he is so and so (uncle of Hafsa رضی اللہ عنہا by reason of fosterage). 'A'isha رضی اللہ عنہا said: Messenger of Allah, if so and so (her uncle by reason of fosterage) were alive, could he enter my house? Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Yes. Fosterage makes unlawful what consanguinity makes unlawful.

Urdu

یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، عبداللہ بن ابوبکر سے روایت ہے ، انہوں نے عمرہ سے روایت کی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف فرما تھے انہوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے ایک آدمی کی آواز سنی جو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا تھا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! یہ آدمی آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگ رہا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرا خیال ہے وہ فلاں ہے ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی چچا کے بارے میں ( فرمایا ) ۔ ۔ " عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! اگر فلاں ۔ ۔ انہوں نے اپنے ایک رضاعی چچا کے بارے میں کہا ۔ ۔ زندہ ہوتا تو وہ میرے گھر میں آ سکتا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : " ہاں ، بلاشبہ رضاعت ان تمام رشتوں کو حرام کر دیتی ہے جن کو ولادت حرام کرتی ہے.

#3569sahih-muslim · 18

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، ح وحَدَّثَنِي أَبُو مَعْمَرٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْهُذَلِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، جَمِيعًا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْوِلَادَةِ».

A'isha (رضی اللہ عنہا) reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: What becomes unlawful through breastfeeding is that which becomes unlawful through birth.

Urdu

ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ ایچ نے بیان کیا اور مجھ سے ابو معمر اسماعیل بن ابراہیم الحذلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہشام بن عروہ نے عبداللہ بن ابوبکر سے ، انہوں نے عمرہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " رضاعت سے وہ ( رشتے ) حرام ہو جاتے ہیں جو ولادت سے حرام ہوتے ہیں.

#3570sahih-muslim · 18

وحَدَّثَنِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. مِثْلَ حَدِيثِ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ.

Abdullah bin Abi Bakr narrated a Hadith similar to that of Hisham bin Urwah (no. 3569), with this chain.

Urdu

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ابن جریج نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے عبداللہ بن ابوبکر نے اسی سند سے ہشام بن عروہ کی حدیث کے مانند خبر دی.

#3571sahih-muslim · 18

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ، جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا، وَهُوَ عَمُّهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ، بَعْدَ أَنْ أُنْزِلَ الْحِجَابُ، قَالَتْ: فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ: «فَأَمَرَنِي أَنْ آذَنَ لَهُ عَلَيَّ.

A'isha ( رضی اللہ عنہا) reported:

Aflah, the brother of Abu'l-Qu'ais, who was her uncle by reason of fosterage, came, and asked her permission (to enter the house) after seclusion (Hijab) was instituted. I refused to admit him. When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) came, I informed him what I had done. He commanded me to grant him permission (as the brother of her foster-father was also her uncle).

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے پڑھا امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے ان ( عروہ ) کو خبر دی کہ

پردے کے احکام نازل ہونے کے بعد ابوقُعیس کے بھائی افلح آئے ، وہ اندر آنے کی اجازت چاہتے تھے ، اور وہ ان کے رضاعی چچا ( لگتے ) تھے ۔ انہوں نے کہا : میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو جو میں نے کیا آپ کو بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ انہیں اپنے سامنے آنے کی اجازت دوں.

#3572sahih-muslim · 18

وَحَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَانِي عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَفْلَحُ بْنُ أَبِي قُعَيْسٍ، فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مَالِكٍ، وَزَادَ، قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: «تَرِبَتْ يَدَاكِ» أَوْ «يَمِينُكِ».

A'isha (رضی اللہ عنہا) reported:

There came to me Aflah bin Abu Qulais, my uncle by reason of fosterage; the rest of the hadith is the same (but with this) addition: I ('A'isha رضی اللہ عنہا) said (to the Holy Prophet ﷺ): It was the woman who suckled me and not the man, whereupon he (Allah's Messenger ﷺ) said: May your hands or your right hand be besmeared with dust (you were mistaken).

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا

میرے پاس میرے رضاعی چچا افلح بن ابی قعیس آئے ، ( آگے ) امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور یہ اضافہ کیا : ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ) میں نے عرض کی : مجھے تو عورت نے دودھ پلایا ہے ، مرد نے نہیں پلایا ۔ آپ نے فرمایا : " تیرے دونوں ہاتھ یا تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو.

#3573sahih-muslim · 18

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، أَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا بَعْدَ مَا نَزَلَ الْحِجَابُ، وَكَانَ أَبُو الْقُعَيْسِ أَبَا عَائِشَةَ مِنَ الرَّضَاعَةِ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: وَاللهِ، لَا آذَنُ لِأَفْلَحَ، حَتَّى أَسْتَأْذِنَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ أَبَا الْقُعَيْسِ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي، وَلَكِنْ أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ جَاءَنِي يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَكَرِهْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْذِنَكَ، قَالَتْ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ائْذَنِي لَهُ»، قَالَ عُرْوَةُ: فَبِذَلِكَ كَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ: «حَرِّمُوا مِنَ الرَّضَاعَةِ مَا تُحَرِّمُونَ مِنَ النَّسَبِ.

A'isha (Allah be pleased with her) reported that t

There came Aflah the brother, of Abu'l-Qu'ais, who sought her permission (to enter) after seclusion was instituted, and AbuQu'ais was the father of 'A'isha by reason of fosterage. 'A'isha رضی اللہ عنہا said: By Allah, I would not permit Aflah unless I have solicited the opinion of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) for Abu Qulais has not suckled me, but his wife has given me suck. 'A'isha' ( رضی اللہ عنہا) said: When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) entered, I said: Allah's Messenger, Aflah is the brother of Abu'l-Qulais; he came to me to seek my permission for entering (the houst). I did not like the idea of granting him permission until I had solicited your opinion. Thereupon Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: Grant him permission. 'Urwa said it was on account of this that 'A'isha رضی اللہ عنہا used to say. What is unlawful by reason of consanguinity is unlawful by reason of fosterage.

Urdu

مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے روایت کی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ

پردے کا حکم نازل ہونے کے بعد ابوقعیس کے بھائی افلح آئے ، وہ ان کے پاس ( گھر کے اندر ) آنے کی اجازت چاہتے تھے ۔ ابوقعیس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی والد تھے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں افلح کو اجازت نہیں دوں گی حتیٰ کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں ۔ مجھے ابوقعیس نے تو دودھ نہیں پلایا ( کہ اس کا بھائی میرا محرم بن جائے ) مجھے تو ان کی بیوی نے دودھ پلایا تھا ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! ابوقعیس کے بھائی افلح میرے پاس آئے تھے ، وہ اندر آنے کی اجازت مانگ رہے تھے ، مجھے اچھا نہ لگا کہ میں انہیں اجازت دوں یہاں تک کہ آپ سے اجازت لے لوں ۔ ( عروہ نے ) کہا : حضرت ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" انہیں اجازت دے دیا کرو ۔ "" عروہ نے کہا : اسی ( حکم ) کی وجہ سےحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہا کرتی تھیں : رضاعت کی وجہ سے وہ سب رشتے حرام ٹھہرا لو جنہیں تم نسب کی وجہ سے حرام ٹھہراتے ہو.

#3574sahih-muslim · 18

وَحَدَّثَنَاهُ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، جَاءَ أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ، وَفِيهِ: «فَإِنَّهُ عَمُّكِ تَرِبَتْ يَمِينُكِ» وَكَانَ أَبُو الْقُعَيْسِ زَوْجَ الْمَرْأَةِ الَّتِي أَرْضَعَتْ عَائِشَةَ.

This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters (that 'A'isha رضی اللہ عنہا said):

There came Aflah, the brother of Abu'l Qulais (Allah be pleased with him), and sought permission from her, the rest of the hadith is the same (except for the words that the Holy Prophet) said: He is your uncle. Let your hand be besmeared with dust. Abu'l Qulais was the husband of the woman who had suckled 'A'isha (رضی اللہ عنہا).

Urdu

اور ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے ہمیں زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ

ابوقعیس کے بھائی افلح آئے ، وہ ان کے پاس گھر کے اندر آنے کی اجازت چاہتے تھے ۔ ۔ ۔ ان سب کی حدیث کی طرح ۔ ۔ ۔ اور اس میں ہے " وہ تمہارے چچا ہیں ، تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو " اور ابوقعیس اس عورت کے شوہر تھے جس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دودھ پلایا تھا.

#3575sahih-muslim · 18

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: جَاءَ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ، فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ حَتَّى أَسْتَأْمِرَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ: إِنَّ عَمِّي مِنَ الرَّضَاعَةِ اسْتَأْذَنَ عَلَيَّ فَأَبَيْتُ أَنْ آذَنَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ عَمُّكِ»، قُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ، وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ، قَالَ: «إِنَّهُ عَمُّكِ، فَلْيَلِجْ عَلَيْكِ».

A'isha (رضی اللہ عنہا) reported:

My foster uncle came to me and sought permission (to enter the house), but I refused him permission until I had solicited the opinion of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) came, I said to him: My foster-uncle sought my permission to (enter the house), but I did not permit him, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: You better admit your uncle (into the house). I ('A'isha) said: It was the woman who suckled me and not the man. (But he) said: He is your uncle, admit him.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے انہوں نے بیان کیا ابن نمیر نے ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا

میرے رضاعی چچا آئے ، وہ مجھ سے ( گھر کے ) اندر آنے کی اجازت چاہتے تھے ، میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لوں ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کی : میرے رضاعی چچا نے میرے پاس ( گھر کے اندر ) آنے کی اجازت مانگی تو میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کر دیا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے چچا تمہارے پاس ( گھر میں ) آ جائیں ۔ " میں نے کہا : مجھے عورت نے دودھ پلایا تھا ، مرد نے نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ تمہارے چچا ہیں ، وہ تمہارے گھر میں آ سکتے ہیں.

#3576sahih-muslim · 18

وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters (and the words are):

The brother of Abu'l-Qu'ais sought permission from her ('A'isha رضی اللہ عنہا ) (to enter the house). The rest is the same.

Urdu

مجھ سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا حماد ، یعنی ابن زید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند سے حدیث بیان کی کہ

ابوقعیس کے بھائی نے ان ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ) کے ہاں آنے کی اجازت مانگی ۔ ۔ ۔ آگے اسی طرح بیان کیا.

#3577sahih-muslim · 18

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ. نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَلَيْهَا أَبُو الْقُعَيْسِ .

A similar report (as no. 3575) was narrated from Hisham, with this chain, except that he said:

"Abu Al-Quais asked from permission to enter upon her.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا ابومعاویہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی مگر انہوں نے کہا

ابوقیس نے ان کے ہاں آنے کی اجازت مانگی.