Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#5646sahih-muslim · 40

حَدَّثَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي زِيَادٌ أَنَّ ثَابِتًا مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الْمَاشِي وَالْمَاشِي عَلَى الْقَاعِدِ وَالْقَلِيلُ عَلَى الْكَثِيرِ.

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: The rider should first greet the pedestrian, and the pedestrian the one who is seated and a small group should greet a larger group (with as-Salam-o-'Alaikum).

Urdu

مجھ سے عقبہ بن مکرم نے بیان کیا، ہم سے ابو عاصم نے ابن جریج کی سند سے اور مجھ سے محمد بن مرزوق نے بیان کیا، ہم سے روح نے بیان کیا، ہم سے ابن جریج نے بیان کیا۔ زیاد نے مجھے بتایا کہ ثابت ایک بندہ ہے, عبد الرحمٰن بن زید کے آزاد کردہ غلام ثابت نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سوار پید ل کو سلام کرے ، چلنے والا بیٹھے ہو ئے کو سلام کرے اور کم لو گ زیادہ لوگوں کو سلام کریں ۔

#5647sahih-muslim · 40

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ كُنَّا قُعُودًا بِالْأَفْنِيَةِ نَتَحَدَّثُ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عَلَيْنَا فَقَالَ مَا لَكُمْ وَلِمَجَالِسِ الصُّعُدَاتِ اجْتَنِبُوا مَجَالِسَ الصُّعُدَاتِ فَقُلْنَا إِنَّمَا قَعَدْنَا لِغَيْرِ مَا بَاسٍ قَعَدْنَا نَتَذَاكَرُ وَنَتَحَدَّثُ قَالَ إِمَّا لَا فَأَدُّوا حَقَّهَا غَضُّ الْبَصَرِ وَرَدُّ السَّلَامِ وَحُسْنُ الْكَلَامِ.

Abu Talha رضی اللہ عنہ reported:

While we were sitting in front of the houses and talking amongst ourselves, Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) happened to come there. He stood by us and said: What about you and your meetings on the paths? Avoid these meetings on the paths. We said: We were sitting here without (any intention of doing harm to the passers-by) ; we are sitting to discuss matters and to hold conversation amongst ourselves. Thereupon he said: If there is no help (for you but to sit on these paths), then give the paths their rights and these are lowering of the gaze, exchanging of greetings and good conversation.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن حکیم نے بیان کیا, اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا

ہم مکانوں کے سامنے کی کھلی جگہوں میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اور ہمارے پاس کھڑے ہو گئے ۔ آپ نے فر ما یا : " تمھا را راستوں کی خالی جگہوں پر مجلسوں سے کیا سروکار؟ راستوں کی مجا لس سے اجتناب کرو ۔ " ہم ایسی باتوں کے لیے بیٹھے ہیں جن میں کسی قسم کی کو ئی قباحت نہیں ، ہم ایک دوسرے سے گفتگو اور بات چیت کے لیے بیٹھے ہیں ، آپ نے فر ما یا : " اگر نہیں ( رہ سکتے ) تو ان ( جگہوں ) کے حق ادا کرو ( جو یہ ہیں ) : آنکھ نیچی رکھنا ، سلام کا جواب دینا اور اچھی گفتگو کرنا ۔ "

#5648sahih-muslim · 40

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ بِالطُّرُقَاتِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا بُدٌّ مِنْ مَجَالِسِنَا نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَبَيْتُمْ إِلَّا الْمَجْلِسَ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ قَالُوا وَمَا حَقُّهُ قَالَ غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْكَرِ.

Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Avoid sitting on the paths. They (the Companions) said: Allah's Messenger, we cannot help but holding our meetings (in these paths) and discuss matters (there). Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: If you insist on holding meetings, then give the path its due right. They said: What are its due rights? Upon this he said: Lowering the gaze, refraining from doing harm, exchanging of greetings. commanding of good and forbidding from evil.

Urdu

ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا,حفص بن میسرہ نے زید بن اسلم سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ

آپ نے فر ما یا : " راستوں میں بیٹھنے سے اجتنا ب کرو ۔ " صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ہمارے لیے ( را ستے کی ) مجلسوں کے بغیر جن میں ( بیٹھ کر ) ہم باتیں کرتے ہیں ، کو ئی چارہ نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اگر تم مجا لس کے بغیر نہیں رہ ہو سکتے تو را ستے کا حق ادا کرو ۔ " لوگوں نے کہا : اس کا حق کیا ہے ؟آپ نے فر ما یا : " نگاہ نیچی رکھنا تکلیف دہ چیزوں کو ( را ستے سے ) ہٹانا ، سلام کا جواب دینا ، اچھا ئی کی تلقین کرنا اور بر ائی سے روکنا ۔ "

#5649sahih-muslim · 40

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ كِلَاهُمَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

This hadith has been narrated on the authority of Zaid bin Aslam with the same chain of transmitters.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, عبد العزیزبن محمد مدنی اور ہشام بن سعد دونوں نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔

#5650sahih-muslim · 40

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ خَمْسٌ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسٌ تَجِبُ لِلْمُسْلِمِ عَلَى أَخِيهِ رَدُّ السَّلَامِ وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ وَإِجَابَةُ الدَّعْوَةِ وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعُ الْجَنَائِزِ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَانَ مَعْمَرٌ يُرْسِلُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَأَسْنَدَهُ مَرَّةً عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Five are the rights of a Muslim over his brother: Returning the salam, replying by saying Yarhamuk Allah (may Allah have mercy on you) to one who sneezes accepting an invitation, visiting the sick nd attending funeral. responding to salutation, saying Yarhamuk Allah when anybody sneezes and says al-Hamdulillah, visiting the sick. following the bier. ' Abdul-Razzaq said that this hadith has been transmitted as mursal hadith from Zuhri and he then substantiated it on the authority of Ibn Musayyib. Abdul Razzaq said: Mu'mar used to transmit this hadith (without mentioning the names of the Tabi'i and the Companions) and sometimes he would narrate it (from Sa'id bin Al-Musayyib) and then from Abu Hurairah (رضی اللہ عنہ ).

Urdu

مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یو نس نے ابن شہاب ( زہری ) سے انھوں نے ابن مسیب سے روایت کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : مسلمان کے مسلمان پر پا نچ حق ہیں ۔ "" نیز عبد الرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے ( ابن شہاب ) زہری سے خبر دی ، انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : "" ایک مسلمان کے لیے اس کے بھا ئی پر پانچ چیزیں واجب ہیں : سلام کا جواب دینا چھینک مارنے والے کے لیے رحمت کی دعا کرنا دعوت قبول کرنا ، مریض کی عیادت کرنا اور جنازوں کے ساتھ جا نا ۔ "" عبدالرزاق نے کہا : معمر اس حدیث ( کی سند ) میں ارسال کرتے تھے ( تابعی اور صحابی کا نام ذکر نہیں کرتے تھے ) اور کبھی اسے ( سعید ) بن مسیب اور آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے ( متصل مرفوع ) روایت کرتے تھے ۔

#5651sahih-muslim · 40

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ حَقُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ سِتٌّ قِيلَ مَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا لَقِيتَهُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ وَإِذَا دَعَاكَ فَأَجِبْهُ وَإِذَا اسْتَنْصَحَكَ فَانْصَحْ لَهُ وَإِذَا عَطَسَ فَحَمِدَ اللَّهَ فَسَمِّتْهُ وَإِذَا مَرِضَ فَعُدْهُ وَإِذَا مَاتَ فَاتَّبِعْهُ.

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Six are the rights of a Muslim over another Muslim. It was said to him: Allah's Messenger, what are these? Thereupon he said: When you meet him, offer him greetings; when he invites you to a feast accept it. when he seeks your council give him, and when he sneezes and says: All praise is due to Allah, you say Yarhamuk Allah (may Allah show mercy to you) ; and when he fails ill visit him; and when he dies follow his bier.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: اسماعیل بن جعفر نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، روایت کی ، کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حق ہیں ۔ " پوچھا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ کو ن سے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب تم اس سے ملو تو اس کو سلام کرو اور جب وہ تم کو دعوت دے تو قبول کرو اور جب وہ تم سے نصیحت طلب کرے تو اس کو نصیحت کرو ، اور جب اسے چھینک آئے اور الحمدللہ کہے تو اس کے لیے رحمت کی دعاکرو ۔ جب وہ بیمار ہو جا ئے تو اس کی عیادت کرو اور جب وہ فوت ہو جا ئے تو اس کے پیچھے ( جنازے میں ) جاؤ ۔ "

#5652sahih-muslim · 40

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَلَّمَ عَلَيْكُمْ أَهْلُ الْكِتَابِ فَقُولُوا وَعَلَيْكُمْ.

Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: When the People of the Book offer you salutations, you should say: The same to you.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا, عبید اللہ بن ابی بکر نے اپنے داداحضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب اہل کتاب تم کوسلام کریں تو تم ان کے جواب میں " وعلیکم " ( اورتم پر ) کہو ۔ "

#5653sahih-muslim · 40

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي و حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لَهُمَا قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْنَا فَكَيْفَ نَرُدُّ عَلَيْهِمْ قَالَ قُولُوا وَعَلَيْكُمْ.

Anas رضی اللہ عنہ reported:

The Companions of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: The People. of the Book offer us salutations (by saying as-Salamu- 'Alaikum). How should we reciprocate them? Thereupon he said: Say: Wa 'Alaikum (and upon you too).

Urdu

ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوحنیف نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، یعنی ابن حارث نے، انہوں نے کہا: شعبہ نے کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتےہو ئے حدیث بیان کر رہے تھے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : اہل کتاب ہمیں سلام کرتے ہیں ۔ ہم ان کو کیسے جواب دیں ، آپ نے فر ما یا : " تم لوگ " وعلیکم " ( اور تم پر ) کہو ۔ "

#5654sahih-muslim · 40

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى بْنِ يَحْيَى قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْيَهُودَ إِذَا سَلَّمُوا عَلَيْكُمْ يَقُولُ أَحَدُهُمْ السَّامُ عَلَيْكُمْ فَقُلْ عَلَيْكَ.

Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: When the Jews offer you salutations, some of them say as-Sam-u-'Alaikum (death be upon you). You should say (in response to it): Let it be upon you.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، اور یہ قول یحییٰ بن یحییٰ سے ہے: ہم نے بتایا اور دوسروں نے بتایا, اسماعیل بن جعفر نے عبد اللہ بن دینار سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : جب یہود تم کو سلام کرتے ہیں تو ان میں سے کو ئی شخص ( اَلسَامُ عَلَيكُم ) ( تم پر موت نازل ہو ) کہتا ہے ۔ " ( اس پر ) تم ( عَلَيكُم ) ( تجھ پر ہو ) کہو ۔ "

#5655sahih-muslim · 40

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَقُولُوا وَعَلَيْكَ.

A similar report (as no. 5654) was narrated from Ibn Umar from the prophet ﷺ, except that he said: "Say: 'Wa'aalikum (and also upon you).'"

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا, سفیان نے عبد اللہ بن دینار سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے مانند روایت کی مگر اس میں ہے ۔ " تو تم پر کہو : " وعلیکم " ( تم پرہو ۔ )