Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#7523sahih-muslim · 55

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ يُغْفَرْ لَكُمْ خَطَايَاكُمْ فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَى أَسْتَاهِهِمْ وَقَالُوا حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ.

Hammim bin Munabbih reported:

This is what Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported to us from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and in this connection he narrated some of the ahadith and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: It was said to people of Israel: Enter this land saying Hitta (Remove Thou from us the burden of our sins), whereupon We would forgive you your sins, but they twisted (this statement) and entered the gate dragging upon their breech and said: The grain in the ear.

Urdu

ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا

یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ نے ہمیں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے کئی احادیث ذکر کیں ، ان میں سے ( ایک حدیث ) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بنی اسرائیل سے کہا گیا : ( شہر کے ) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے جاؤ اور کہو : حطۃ ( ہمیں بخش دے ) دہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے ، انھوں نے ( اس کے ) الٹ کیا ، چنانچہ وہ اپنے چوتڑوں کے بل گھسیٹتے ہوئے دروازے سے داخل ہوئے اور انھوں نے ( حطہ کے بجائے ) " ہمیں بالی میں دانہ چاہیے " کہا ۔

#7524sahih-muslim · 55

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:

Allah, the Exalted and Glorious, sent revelation to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) just before his death in quick succession until he left for his heavenly home, and the day when he died, he received the revelation profusely.

Urdu

مجھ سے عمرو بن محمد بن بکیر النقید، حسن بن علی الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا۔ عبد نے کہا: اس نے مجھ سے بیان کیا، اور باقی دو نے کہا: یعقوب، یعنی ابن ابراہیم بن سعد نے ہم سے بیان کیا۔ میرے والد نے ہم سے صالح کی سند سے بیان کیا جو ابن کیسان ہیں, ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کی وفات تک لگاتار وہی نازل فرمائی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی اس دن سب سے زیادہ وحی آئی ۔

#7525sahih-muslim · 55

حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ الْيَهُودَ قَالُوا لِعُمَرَ إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً لَوْ أُنْزِلَتْ فِينَا لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ وَأَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أُنْزِلَتْ أُنْزِلَتْ بِعَرَفَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ قَالَ سُفْيَانُ أَشُكُّ كَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ أَمْ لَا يَعْنِي الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي.

Tariq bin Shihab reported:

A Jew said to 'Umar رضی اللہ عنہ : You recite a verse which, if it had been revealed in relation to us, we would have taken that day as the day of rejoicing. Thereupon 'Umar رضی اللہ عنہ said: I know where it was revealed and on the day when it was revealed and where Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had been at that time when it was revealed. It was revealed on the day of 'Arafa (ninth of Dhu'l Hijjah) and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had been staying in 'Arafat. Sufyan said: I doubt, whether it was Friday or not (and the verse referred to) is this: Today I have perfected your religion for you and completed My favours upon you (v. 4).

Urdu

مجھ سے ابو خیثمہ زہیر بن حرب اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا اور قول ابن المثنیٰ کا ہے۔ انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرحمٰن نے جو ابن مہدی ہیں، بیان کیا:سفیان نے قیس بن مسلم سے اور انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی کہ

یہودیوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ لوگ ( مسلمان ) ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر وہ آیت ہمارے ہاں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں جانتا ہوں ، وہ آیت کس جگہ اور کس دن نازل ہوئی تھی اور جس وقت وہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے ۔ یہ آیت عرفہ ( کے مقام ) پر نازل ہوئی تھی اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں تھے ۔ سفیان نے کہا مجھے شک ہے کہ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بھی کہا تھا ) جمعہ کادن تھا یا نہیں؟ان کی مراد اس آیت سے تھی؛ " آج میں تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی ۔ "

#7526sahih-muslim · 55

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَتْ الْيَهُودُ لِعُمَرَ لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ يَهُودَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَقَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ وَالسَّاعَةَ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتْ نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ.

Tariq bin Shihab reported:

A Jew said to 'Umar رضی اللہ عنہ: If this verse were revealed in relation to the Jews (i.e. This day I have perfected your religion for you and have completed My favours for you and have chosen for you al-Islam as religion ) we would have taken the day of rejoicing on which this verse was revealed. Thereupon 'Umar رضی اللہ عنہ said: I know the day on which it was revealed and the hour when it was revealed and where Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had been when it was revealed. It was revealed on the night of Friday and we were in 'Arafat with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) at that time.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، اور قول ابوبکر کا ہے, عبداللہ بن ادریس نے اپنے والد سے ، انھوں نے قیس بن مسلم سے اور انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی ، کہا

یہود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : اگر یہ آیت ہم یہودیوں کی جماعت پر نازل ہوتی؛ " آج میں نے تمہارا لیےتمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کردیا اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا ۔ " ہمیں پتہ ہوتا کہ وہ کس دن نازل ہوئی ہےتو ہم اس دن کوعید قرار دیتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں وہ دن اور وہ گھڑی جس میں یہ آیت اتر ی تھی ، اور اس کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس جگہ تھے ( سب کچھ ) جانتا ہوں ۔ یہ ( آیت ) مزدلفہ کی رات ( آنے والی تھی ، تب ) اتری تھی ، اور ( اس وقت ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ عرفات میں تھے ۔

#7527sahih-muslim · 55

و حَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْيَهُودِ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا قَالَ وَأَيُّ آيَةٍ قَالَ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ.

Tariq bin Shihab reported:

A Jew came to 'Umar رضی اللہ عنہ and said: Commander of the Faithful, there is a verse in your Book, which you recite. Had it been revealed in connection with the Jews, we would have taken it as the day of rejoicing. Thereupon he said: Which verse do you mean? He replied: This day I have perfected your religion for you and I have completed My favours upon you and I have chosen al-Islam as religion for you. Umar رضی اللہ عنہ said, I know the day when it was revealed and the place where it was revealed. It was revealed to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) at 'Arafat on Friday.

Urdu

اور مجھ سے عبد بن حمید نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا, ابو عمیس نے قیس بن مسلم سے اور انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی ، کہا

یہودیوں میں سے ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا : امیر المومنین!آپ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے ، آپ اسے پڑھتے ہیں ، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن وعید قرار دیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : وہ کون سی آیت ہے؟اس نے کہا : " آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نےکہا : میں دو دن بھی جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی وہ جگہ بھی جہاں یہ نازل ہوئی ، یہ ( آیت ) عرفات میں جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی ۔

#7528sahih-muslim · 55

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا و قَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنْ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَكُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِكُهُ فِي مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَى سُنَّتِهِنَّ مِنْ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنْ النِّسَاءِ سِوَاهُنَّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ قَالَتْ وَالَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَى الَّتِي قَالَ اللَّهُ فِيهَا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنْ النِّسَاءِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَى وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ رَغْبَةَ أَحَدِكُمْ عَنْ الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَكُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَكُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْكِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَى النِّسَاءِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ.

Urwa bin Zubair reported:

He asked 'A'isha رضی اللہ عنہا about the words of Allah: If you fear that you will not be able to maintain equity amongst the orphan girls, then marry (those) you like from amongst the women two, three or four. She said: O, the son of my sister, the orphan girl is one who is under the patronage of her guardian and she shares with him in his property and her property and beauty fascinate him and her guardian makes up his mind to marry her without giving her due share of the wedding money and is not prepared (to pay so much amount) which anyone else is prepared to pay and so Allah has forbidden to marry these girls but in case when equity is observed as regards the wedding money and they are prepared to pay them the full amount of the wedding money and Allah commanded to marry other women besides them according to the liking of their heart. 'Urwa reported that 'A'isha رضی اللہ عنہا said that people began to seek verdict from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) after the revelation of this verse about them (orphan girls) and Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: They asked thee verdict about women; say: Allah gives verdict to you in regard to them and what is recited to you in the Book about orphan woman, whom you give not what is ordained for them while you like to marry them (iv. 126). She said: The wording of Allah what is recited to you in the Book means the first verse, i.e. if you fear that you may not be able to observe equity in case of an orphan woman, marry what you like in case of woman (iv. 3). 'A'isha رضی اللہ عنہا said: (And as for this verse [iv. 126], i.e. and you intend to marry one of them from amongst the orphan girls it pertains to one who is in charge (of orphans) having small amount of wealth and less beauty and they have been forbidden that they should marry what they like of her wealth and beauty out of the orphan girls, but with equity, because of their disliking for them.

Urdu

مجھ سے ابو طاہر احمد بن عمرو بن سرح اور حرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا, ابو الطاہر نے کہا, ہم سے انہوں نے بیان کیا اور حرملہ نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ

انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل نے فرمان : "" اگر تمھیں خدشہ ہوکہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو ان عورتوں میں سے ، جو تمھیں اچھی لگیں دو ، دو ، تین ، تین چار ، چار سے نکاح کرلو "" کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : میرے بھانجے!یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہوتی ہے اس کے ( موروثی ) مال میں اسکے ساتھ شریک ہوتی ہے تو اس کے ولی ( چچازاد وغیرہ ) کو اس کا مال اور جمال دونوں پسند ہوتے ہیں اور اس کا ولی چاہتا ہے کہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی کرلےاور وہ بھی اسے اتنا مہر دے جتنا کوئی دوسرااسے دے گا ، چنانچہ ان ( لوگوں ) کو اس با ت سے روک دیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ شادی کریں الا یہ کہ وہ ( مہر میں ) ان سے انصاف کریں اور مہرمیں جو سب سے اونچا طریقہ ( رائج ) ہے اس کی پابندی کریں اور ( اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو ) انھیں حکم دیا گیا کہ ان ( یتیم لڑکیوں ) سے سوا جو عورتیں انھیں اچھی لگیں ان سے شادی کرلیں ۔ عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : پھر لوگوں نے اس آیت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( عورتوں کے حوالے سے مزید ) دریافت کیا تو اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : "" اور یہ آپ سے عورتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ۔ کہیے : اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو کچھ تم پر کتاب میں پڑھاجاتا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہےجنھیں تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو ۔ "" ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : جس بات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کتاب میں تلاوت کی جاتی ہے ، وہ وہی پہلی آیت ہے جس میں اللہ فرماتا ہے : "" اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کرپاؤ گےتو ( دوسری ) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں ان سے نکاح کرو ۔ "" حضر ت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اور بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : "" اور تم ان کے نکاح سے رغبت کرتے ہو ۔ "" ( کا مطلب ہے کہ ) جب تم میں سے کسی کی سرپرستی میں رہنے والی لڑکی مال اور جمال میں کم ہوتو اس سے ( شادی کرنے سے ) روگردانی کرنا ، چنانچہ ان سے ( نکاح کی ) رغبت نہ ہونے کی بناء پر ان کو منع کیا گیا کہ وہ جن ( یتیم لڑکیوں ) کے مال اورجمال میں رغبت رکھتے ہیں ان سے بھی شادی نہ کریں الا یہ کہ ( مہر میں ) انصاف سے کام لیں ۔

#7529sahih-muslim · 55

و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فِي آخِرِهِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا كُنَّ قَلِيلَاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ.

Urwa reported:

He asked 'A'isha رضی اللہ عنہا about the words of Allah: If you fear that you will not be able to observe equity in case of orphan girls ; the rest of the hadith is the same but with a slight variation of wording.

Urdu

ہم سے حسن الحلوانی اور عبد بن حمید دونوں نے یعقوب بن ابراہیم بن سعد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا, صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عروہ نے بتایاکہ

انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرمان؛ " اور تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرپاؤگے " کے بارے میں پوچھا ، پھر زہری سے یونس کی روایت کردہ حدیث کے مطابق بیان کیا اور اس کے آخر میں مزید کہا : " اگر وہ مال اور جمال میں کم ہوتو تمہارے ان سے اعراض کرنے کی بنا پر ۔ "

#7530sahih-muslim · 55

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْيَتِيمَةُ وَهُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا وَلَهَا مَالٌ وَلَيْسَ لَهَا أَحَدٌ يُخَاصِمُ دُونَهَا فَلَا يُنْكِحُهَا لِمَالِهَا فَيَضُرُّ بِهَا وَيُسِيءُ صُحْبَتَهَا فَقَالَ إِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنْ النِّسَاءِ يَقُولُ مَا أَحْلَلْتُ لَكُمْ وَدَعْ هَذِهِ الَّتِي تَضُرُّ بِهَا.

Hisham asked his father (Urwah):

A'isha رضی اللہ عنہا said that as for the words of Allah: If you fear that you would not be able to observe equity in case of orphan girls), it was revealed in reference to a person who had an orphan girl (as his ward) and he was her guardian, and her heir, and she possessed property, but there was none to contend on her behalf except her ownself. And he (her guardian) did not give her in marriage because of her property and he tortured her and ill-treated her, it was in relation to her that (Allah said: ) If you fear that you would not be able to observe equity in case of orphan girls, then marry whom you like among women, i. e. whatever I have made lawful for you and leave her whom you are putting to torture.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا, ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی

انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان : " اگر تمھیں خدشہ ہوکہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں عدل نہیں کر پاؤگے ۔ " کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : یہ ( آیت ) ایسے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کے پاس کوئی یتیم لڑکی ہو وہ اس کا ولی اور وارث ہو ۔ اس لڑکی کا مال ( میں بھی حق ) ہواس ( لڑکی کے مفاد ) کے لیے کو ئی شخص جھگڑا کرنے والا بھی نہ ہوتو وہ آدمی اس لڑکی کے مال کی بناپر اس کی کہیں اور شادی نہ کرےاور اسے نقصان پہنچائے ۔ اور اس سے برا سلوک کرے تو اس ( اللہ ) نے فرمایا : " اگر تمھیں اندیشہ ہے کہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہ کرپاؤگے تو ( دوسری ) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں انھیں سے نکاح کرو ۔ " وہ ( اللہ ) فرماتا ہے ۔ ( دوسری عورتوں سے نکاح کرلو ) جو میں نے تمھارےلیے ( نکاح کے طریق پر ) حلال کی ہیں اور اس ( لڑکی ) کو چھوڑدوجس کو تم نقصان پہنچارہے ہو ۔

#7531sahih-muslim · 55

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي الْيَتِيمَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا فَلَا يَتَزَوَّجُهَا وَلَا يُزَوِّجُهَا غَيْرَهُ.

A'isha رضی اللہ عنہا said in connection with His words (those of Allah):

What is recited to you in the Book about orphan women whom you give not what is ordained for them, while you like to marry them, these were revealed in connection with an orphan girl who was in the charge of the person and she shared with him in his property and he was reluctant to marry her himself and was also unwilling to marry her to someone else (fearing) that (that person) would share in his property (as the husband of that girl), preventing her to marry, neither marrying her himself nor marrying her to another person.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے, انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان :

" جو کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں تلاوت کی جاتی ہے جن کو تم دو ( مہر ) نہیں دیتے جوان کے حق میں فرض ہے اوران کے نکاح سے رغبت کرتے ہو ۔ کے بارے میں روایت بیان کی ۔ ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : یہ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی آدمی کے پاس ہوتی ، اس کے مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی اور وہ اس سے ( شادی کرنے سے ) کنارہ کشی کرتا ہے اور اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہے کہ کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کرے اور اس ( شخص ) کو اپنے مال میں شریک کرے تو وہ اسے ویسے ہی بٹھا ئے رکھتا ہے نہ خود اس سے شادی کرتاہے اورنہ کسی اور سے اس کی شادی کرتا ہے ۔

#7532sahih-muslim · 55

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله يَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ الْآيَةَ قَالَتْ هِيَ الْيَتِيمَةُ الَّتِي تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَعَلَّهَا أَنْ تَكُونَ قَدْ شَرِكَتْهُ فِي مَالِهِ حَتَّى فِي الْعَذْقِ فَيَرْغَبُ يَعْنِي أَنْ يَنْكِحَهَا وَيَكْرَهُ أَنْ يُنْكِحَهَا رَجُلًا فَيَشْرَكُهُ فِي مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا.

Hisham reported that 'A'isha رضی اللہ عنہا said in connection with the words of Allah:

They ask thee the religious verdict about women, say: Allah gives you the verdict about them (iv. 126), that these relate to an orphan girl who is in charge of the person and she shares with him in his property (as a heir) even in the date-palm trees and he is reluctant to give her hand in marriage to any other person lest he (her husband) should partake of his property, and thus keep her in a lingering state.

Urdu

ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابو اسامہ نے کہا , ہمیں ہشام نے اپنے والد سے خبر دی انھوں نے اس عزوجل کے فرمان : مکمل آیت کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا

" اور یہ لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہیے اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے ۔ " یہ ایسی یتیم لڑکی ( کے بارے میں ) ہے جوکسی آدمی کے پاس ہوتی ہے شاید وہ ایسی بھی ہوتی ہے کہ وہ اس کے مال میں حتیٰ کہ کھجور کے درختوں میں بھی اس کے ساتھ شریک ہوتی ہے وہ خود بھی اس سے روگردانی کرتا یعنی اس سے شادی کرنے سے اور کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کر کے اس ( شخص ) کو اپنے مال میں شریک کرنے کو بھی پسند نہیں کرتا تو وہ اسے ویسے ہی رہنے دیتا ہے ۔