Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#3743sahih-muslim · 20

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرًا الْعَجْلاَنِيَّ جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ الأَنْصَارِيِّ فَقَالَ لَهُ أَرَأَيْتَ يَا عَاصِمُ لَوْ أَنَّ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَسَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ جَاءَهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ يَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا ‏.‏ قَالَ عُوَيْمِرٌ وَاللَّهِ لاَ أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا ‏.‏ فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَسَطَ النَّاسِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ ‏ قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاذْهَبْ فَأْتِ بِهَا ‏ ‏ ‏.‏ قَالَ سَهْلٌ فَتَلاَعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا ‏.‏ فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏.‏

Sahl bin Sa'd al-Sa'idi رضی اﷲ عنہ reported:

'Uwaimir al-'Ajlani came to 'Asim bin 'Adi al-Ansari and said to him. Tell me about a person who finds a man with his wife; should he kill him, and be killed In retaliation; or how should he act? 'Asim رضی اﷲ عنہ , ask for me (religious verdict about it) from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌). So 'Asim رضی اﷲ عنہ asked Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and he did not like this question and he disapproved of it so much that'Asim felt aggrieved at what he had heard from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌). When 'Asim came back to his family, 'Uwaimir came to him and said: 'Asim, what did Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) say to you? 'Asim said to 'Uwaimir: You did not bring something good. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) did not like this religious verdict that I sought from him. 'Uwaimir said: By Allah, I will not rest until I have asked him about it. 'Uwaimir proceeded until he came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as he was sitting amidst people, and said: Messenger of Allah, tell me about a person who found a man with his wife. Should he kill him, and then you would kill him, or how should he act? Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: (Verses) have been revealed concerning you and your wife; so go and bring her. Sahl said that they both invoked curses (and further said): I was along with people in the company of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌). And when they had finished, Uwaimir said: Allah's Messenger, I shall have told a lie against her if I keep her (now). So he divorced her with three pronouncements before Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) had commanded him. Ibn Shihab said: Subsequently that was the practice of invokers of curses (al Mutala'inain)

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک کو ابن شہاب کی روایت سے پڑھا کہ,سہل بن سعد ساعدی رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے

عویمر عجلانی ، عاصم بن عدی انصاری کے پاس آیا اور ان سے کہا اے عاصم! بھلا اگر کوئی شخص اپنی جورو کیس اتھ کسی مرد کو دیکھے کیا اس کو مار ڈالے ، پھر تم اس کو مار ڈالو گے یا وہ کیا کرے؟ تو یہ مسئلہ پوچھو میرے واسطے رسول اﷲ ﷺ سے ۔ عاصم رضی اﷲ عنہ نے رسول اﷲ ﷺ سے پوچھا آپ نے اس قسم کے سوالوں کو ناپسند کیا اور ان کی برائی بیان کی ۔ عاصمؓ نے جو رسول اﷲ ﷺ سے سنا وہ ان کو شاق گزرا ۔ جب وہ اپنے لوگوں میں لوٹ کر آئے تو عویمر ان کے پاس آئے اور پوچھا اے عاصمؓ! جناب رسول اﷲ ﷺ نے کیا فرمایا؟ عاصمؓ نے عویمرؓ سے کہا تو میرے اچھی چیز نہیں لایا ۔ رسول اﷲ ﷺ کو تیرا مسئلہ پوچھنا ناگوار ہوا ۔ عویمرؓ نے کہا قسم خدا کی میں تو باز نہ آؤں گا جب تک یہ مسئلہ آپ سے نہ پوچھوں گا ۔ پھر عویمرؓ آیا رسول اﷲ ﷺ کے پاس تمام لوگوں میں اور عرض کیا یارسول اﷲ! آپ کیا فرماتے ہیں اگرکوئی شخص اپنی بی بی کے پاس غیر مرد کو دیکھے اس کو مار ڈالے ، پھر آپ اس کو مار ڈالیں گے ( اس کے قصاص میں ) وہ کیا کرے؟ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا تیرے او رتیری جورو کے باب میں اﷲ کا حکم اُترا ( یعنی آیت لعان کی ) تو جا او راپنی جورو کو لے کر آ ۔ سہلؓ نے کہا پھر دونوں میاں بیبی نے لعان کیا او رمیں لوگوں کے ساتھ رسول اﷲ ﷺ کے پاس موجود تھا جب وہ فارغ ہوئے تو عویمرؓ نے کہا یا رسول اﷲ اگر میں اس عورت کو اب رکھوں تو میں جھوٹا ہوں پھر عویمرؓ نے اس کو تین طلاق دے دیں اس سے پہلے کہ رسول اﷲ ﷺ اس کو حکم کرتے ابن شہاب نے کہا پھر لعان کرنے والوں کا یہی طریقہ ٹھہرگیا ۔

#3744sahih-muslim · 20

وَحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ الأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا الأَنْصَارِيَّ، مِنْ بَنِي الْعَجْلاَنِ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ ‏.‏ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَالِكٍ وَأَدْرَجَ فِي الْحَدِيثِ قَوْلَهُ وَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا بَعْدُ سُنَّةً فِي الْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏.‏ وَزَادَ فِيهِ قَالَ سَهْلٌ فَكَانَتْ حَامِلاً فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ ‏.‏ ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ أَنَّهُ يَرِثُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللَّهُ لَهَا.‏

Sahl bin Sa'd reported:

'Uwaimir al-Ansari ( رضی اﷲ عنہ) from Banu'l-'Ajlan came to 'Asim bin 'Adi ( رضی اﷲ عنہ) the remaining part of the hadith is the same and it was also reecorded in it: And subsequebtly the separation became the practice of al-Mutala'inain. And this addition was also made: She was pregnant and her son was ascribed to her, and it became customary that such (a son) would inherit her and she would inherit him in the share prescribed by Allah for her.

Urdu

مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا، ابن شہاب سے,سہل بن سعد رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے

عویمر انصاری رضی اﷲ عنہ جو بنی عجلان میں سے تھا عاصم بن عدی رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا پھر بیان کیا حدیث کو اخیر تک اسی طرح جیسے اوپر گزری اور حدیث میں ابن شہاب کا قول بھی شریک کردیاکہ پھر جدائی مرد کو عورت سے سنت ہوگئی لعان کرنے والوں میں اور اتنا زیادہ کیا کہ سہل نے کہا وہ عورت حاملہ تھی اس کے بیٹے کو ماں کی طرف نسبت کرکے پکارتے پھر یہ طریقہ جاری ہوا کہ ایسا لڑکا اپنی ماں کا وارث ہوگا اور وہ اس کی وارث ہوگی اپنے حصہ کے موافق ۔

#3745sahih-muslim · 20

وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، وَعَنِ السُّنَّةِ، فِيهِمَا عَنْ حَدِيثِ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ أَنَّ رَجُلاً، مِنَ الأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلاً وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلاً وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ ‏.‏ وَزَادَ فِيهِ فَتَلاَعَنَا فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا شَاهِدٌ ‏.‏ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَطَلَّقَهَا ثَلاَثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏ فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ذَاكُمُ التَّفْرِيقُ بَيْنَ كُلِّ مُتَلاَعِنَيْنِ ‏.‏

Ibn Juraij narrated:

Ibn Shihab narrated about the invokers of curses and the practice of (li'an) based on the authority of Sahl bin Sa'd, of the tribe of Sa'ida. That a person from the Ansar came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and said: Allah's Messenger, tell me about the person who found a man with his wife. The remaining part of the hadith is the same (but) with this addition: They invoked curses in the mosque and I was present there. And he narrated in the hadith: He divorced her with three pronouncements before Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) commanded him (to get separation). He separated from her in the presence of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌), whereupon he said: There is a separation between the invokers of curses.

Urdu

ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ابن جریج سے روایت ہے کہ

مجھ سے ابن شہاب نے بیان کیا متاعنین کا حال او ران کا طریقہ سہل بن سعدؓ کی حدیث سے جو بنی ساعدہ میں سے تھا اس نے کہا انصار میں سے ایک شخص رسول اﷲ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا یارسول اﷲ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر کوئی شخص اپنی جورو کے ساتھ کسی مرد کو دیکھے اور بیان کیا سارا قصہ حدیث کا اور اتنا زیادہ کیا کہ پھر دونوں نے لعان کیا مسجد کے اندر اور میں موجود تھا اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ اس شخص نے طلاق دی تین بار اپنی عورت کو رسول اﷲ ﷺ کے حکم کرنے سے پہلے پھر وہ جدا ہوگیا اس سے آپ کے سامنے آپ نے فرمایا یہی جدائی ہے درمیان لعان کرنے والوں کے ۔

#3746sahih-muslim · 20

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، جُبَيْرٍ قَالَ سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، فِي إِمْرَةِ مُصْعَبٍ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ فَمَا دَرَيْتُ مَا أَقُولُ فَمَضَيْتُ إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ عُمَرَ بِمَكَّةَ فَقُلْتُ لِلْغُلاَمِ اسْتَأْذِنْ لِي ‏.‏ قَالَ إِنَّهُ قَائِلٌ فَسَمِعَ صَوْتِي ‏.‏ قَالَ ابْنُ جُبَيْرٍ قُلْتُ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ادْخُلْ فَوَاللَّهِ مَا جَاءَ بِكَ هَذِهِ السَّاعَةَ إِلاَّ حَاجَةٌ فَدَخَلْتُ فَإِذَا هُوَ مُفْتَرِشٌ بَرْذَعَةً مُتَوَسِّدٌ وِسَادَةً حَشْوُهَا لِيفٌ قُلْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُتَلاَعِنَانِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ نَعَمْ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَأَلَ عَنْ ذَلِكَ فُلاَنُ بْنُ فُلاَنٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ أَنْ لَوْ وَجَدَ أَحَدُنَا امْرَأَتَهُ عَلَى فَاحِشَةٍ كَيْفَ يَصْنَعُ إِنْ تَكَلَّمَ تَكَلَّمَ بِأَمْرٍ عَظِيمٍ ‏.‏ وَإِنْ سَكَتَ سَكَتَ عَلَى مِثْلِ ذَلِكَ قَالَ فَسَكَتَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فَلَمْ يُجِبْهُ فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ الَّذِي سَأَلْتُكَ عَنْهُ قَدِ ابْتُلِيتُ بِهِ ‏.‏ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ هَؤُلاَءِ الآيَاتِ فِي سُورَةِ النُّورِ ‏{‏ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ‏}‏ فَتَلاَهُنَّ عَلَيْهِ وَوَعَظَهُ وَذَكَّرَهُ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ قَالَ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا كَذَبْتُ عَلَيْهَا ‏.‏ ثُمَّ دَعَاهَا فَوَعَظَهَا وَذَكَّرَهَا وَأَخْبَرَهَا أَنَّ عَذَابَ الدُّنْيَا أَهْوَنُ مِنْ عَذَابِ الآخِرَةِ ‏.‏ قَالَتْ لاَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ إِنَّهُ لَكَاذِبٌ فَبَدَأَ بِالرَّجُلِ فَشَهِدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَةَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِنْ كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ثُمَّ ثَنَّى بِالْمَرْأَةِ فَشَهِدَتْ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِنْ كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ ثُمَّ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا.‏

Sa'id bin Jubair رضی اﷲ عنہ reported:

I was asked about the invokers of curses during the reign of Mus'ab (bin Zubair) whether they could separate (themselves by this process). He said: I did not understand what to say. So I went to the house of Ibn 'Umar ( رضی اﷲ عنہ) in Mecca. I said to his servant: Seek permission for Me. He said that he (Ibn 'Umar رضی اﷲ عنہ) had been taking rest. He (Ibn 'Umar رضی اﷲ عنہ) heard my voice. and said: Are you Ibn Jubair? I said: Yes. He 'said: Come in. By Allah, it must be some (great) need which has brought you here at this Hour. So I got in and found him lying on a blanket reclining against a pillow stuffed with fibres of date-palm. I said: O Abu'Abd al-Rahman, should there be separation between the invokers of curses? He said: Hallowed be Allah, yes, The first one who asked about it was so and so. he said: Messenger of Allah, tell me If one of us finds his wife committing adultery: what should he do? If he talks, that is something great, and if he keeps quiet that is also (something great) (which he cannot afford to do). Allah's Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) kept quiet (or some time). After some time he (that very person) came to him (Allah's Messenger) and said: I have been involved in that very cage about which I had asked you Allah the Exalted and Majestic then revealed (these) verses of Surah Nur: Those who accuse their wives (verse 6), and he (the Holy Prophet) recited them to him and admonished him, and exhorted him and informed him that the torment of the world is less painful than the torment of the Hereafter. He said: No, by Him Who sent you with Truth, I did not tell a lie against her. He (the Holy Prophet) then called her (the wife of that person who had accused her) and admonished her, and exhorted her, and informed her that the torment of this world is less painful than the torment of the Hereafter. She said: No, by Him Who sent thee with Truth, he is a liar. (it was) the man who started the swearing of oath and he swore in the name of Allah four times that he was among the truthful. and at the fifth turn he said: Let there be curse of Allah upon him if he were among the liars. Then the woman was called and she swore four times in the name of Allah that he (her husband) was among the liars, and at the fifth time (she said): Let there be curse upon her if he were among the truthful. He (the Holy Prophet) then effected separation between the two.

Urdu

ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا اور اس کا تلفظ عبداللہ نے بیان کیا۔ ہم سے ابن نمیر، عبد الملک ابن ابی سلیمان نے بیان کیا,سعید بن جبیر رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے مجھ سے پوچھا گیا

لعان کرنے والوں کا مسئلہ مصعب بن زبیر کی خلافت میں میں حیران ہوا کیا جواب دوں تو میں چلا عبدﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہ کے مکان کی طرف مکہ میں او ران کے غلام سے کہا میری عرض کرو اس نے کہا وہ آرام کرتے ہیں انہوں نے میری آواز سنی او رکہا کیا جبیر کا بیٹا ہے؟ میں نے کہا ہاں انہوں نے کہا اندر آ قسم خدا کی تو کسی کام سے آیا ہوگا میں اندر آگیا تو وہ ایک کمبل بچھائے بیٹھے تھے او رایک تکیے پر ٹیک لگائے تھے جو چھال سے کھجور کی بھرا ہوا تھا ۔ میں نے کہا اے ابوعبدالرحمن! لعان کرنے والوں میں جدائی کی جائے گی؟ انہوں نے کہا سبحان اﷲ بے شک جدائی کی جائے گی اور سب سے پہلے اس باب میں فلاں نے پوچھا جو فلاں کا بیٹا تھا رسول اﷲ ﷺ سے ۔ اس نے کہا یا رسول اﷲ آپ کیا سمجھتے ہیں اگر ہم میں سے کوئی اپنی عورت کو برا کام کراتے دیکھے تو کیا کرے ، اگر منہ سے نکالے تو بری بات نکالے گا اگر چپ رہے تو ایسی بری بات سے کیونکر چپ رہے؟ رسول اﷲ ﷺ یہ سن کر چپ ہورہے اور جواب نہیں دیا ۔ پھر وہ شخص آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اﷲ ۔ جو بات میں نے آپ سے پوچھی تھی میں خود اس میں پڑگیا ۔ تب اﷲ تعالیٰ نے یہ آیتیں اتاریں سورۂ نور میں والذین یرمون ازواجھم آخر تک ۔ آپ نے یہ آیتیں مرد کو پڑھ کر سنائیں اور اس کو نصیحت کی اور سمجھایا کہ دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے آسان ہے ۔ ( یعنی اگر تو جھوٹ طوفان باندھتا ہے تو اب بھی بول دے ، حد قذف کے اسی کوڑے پڑجائیں گے ، مگر یہ جہنم میں جلنے سے آسان ہے ) ۔ وہ بولا نہیں قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا میں نے عورت پر طوفان نہیں جوڑا ۔ پھر آپ نے عوت کو بلایااوراس کو ڈرایا اور سمجھایا اور فرمایا دنیا کا عذاب سہل ہے آخرت کے عذاب سے ۔ وہ بولی نہیں قسم اس کی جس نے آپ کو سچائی کیس اتھ بھیجا ہے میرا خاوند جھوٹ بولتا ہے ۔ تب آپ نے شروع کیا مرد سے اور اس نے چار گواہیاں دیں اﷲ تعالیٰ کے نام کی مقرر وہ سچا ہے اور پانچویں بار میں یہ کہا کہ خدا کی پھٹکار ہو اس پر اگر وہ جھوٹا ہو ۔ پھر عورت کو بلایا اس نے چار گواہیاں دیں اﷲ تعالیٰ کے نام کی مقرر مرد جھوٹا ہے اور پانچویں بار میں یہ کہا اﷲ کا غضب اترے اس پر اگر مرد سچا ہے ۔ اس کے بعد آپ نے جدائی کرادی ان دونوں میں ۔

#3747sahih-muslim · 20

وَحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ، أَبِي سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ سُئِلْتُ عَنِ الْمُتَلاَعِنَيْنِ، زَمَنَ مُصْعَبِ بْنِ الزُّبَيْرِ فَلَمْ أَدْرِ مَا أَقُولُ فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ فَقُلْتُ أَرَأَيْتَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ أَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ.‏

Saeed bin Jubair رضی اللہ عنہ said:

"At the time of Musab bin Az-Zubair, I was asked about the two who engaged in Lian, and I did not know what to say, so I went to 'Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ and I said: 'Do you think that two who engaged in Lian should be separated?... '" then he mentioned a Hadith like that of Ibn Umair (no. 3746).

Urdu

ہم سے علی بن حجر السعدی نے بیان کیا، ہم سے عیسیٰ بن یونس نے بیان کیا، ہم سے عبدالملک بن ابی سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا

مجھ سے مصعب بن الزبیر کے زمانے میں دونوں لعنت کرنے والوں کے بارے میں پوچھا گیا اور مجھے معلوم نہیں تھا کہ میں کیا کہوں، تو میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ نے دونوں لعنت کرنے والوں کو دیکھا ہے؟ ان کے درمیان؟" پھر ابن نمیر کی اسی طرح کی حدیث ذکر کی۔

#3748sahih-muslim · 20

وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ - وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى - قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا وَقَالَ الآخَرَانِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ سَعِيدِ بْنِ، جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِلْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏ ‏ حِسَابُكُمَا عَلَى اللَّهِ أَحَدُكُمَا كَاذِبٌ لاَ سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا ‏ ‏ ‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَالِي قَالَ ‏ ‏ لاَ مَالَ لَكَ إِنْ كُنْتَ صَدَقْتَ عَلَيْهَا فَهْوَ بِمَا اسْتَحْلَلْتَ مِنْ فَرْجِهَا وَإِنْ كُنْتَ كَذَبْتَ عَلَيْهَا فَذَاكَ أَبْعَدُ لَكَ مِنْهَا ‏ ‏ ‏.‏ قَالَ زُهَيْرٌ فِي رِوَايَتِهِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ يَقُولُ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏.‏

Ibn Umar (رضی اللہ عنہ) reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) saying to the invokers of curse: Your account is with Allah. One of you must be a liar. You have now no right over this woman. He said: Messenger of Allah, what about my wealth (dower that I paid her at the time of marriage)? He said: You have no claim to wealth. If you tell the truth, it (dower) is the recompense for your having had the right to intercourse with her, and if you tell a lie against her, it is still more remote from you than she is. Zuhair said in his narration: Sufyan reported to us on the authority of 'Amr that he had heard Sa'id bin Jubair saying: I heard Ibn Umar (رضی اللہ عنہ) saying that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) had said it.

Urdu

عبداﷲ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا لعان کرنے والوں کو تم دونوں کا حساب اﷲ تعالیٰ پر ہے ، تم میں سے ایک جھوٹا ہے ۔ آپ نے خاوند سے فرمایا اب تیرا کوئی بس عورت پر نہں ہے کیونکہ وہ تجھ سے ہمیشہ کے لیے جدا ہوگئی ۔ مرد بولا میرا مال یا رسول اﷲ! جو اس نے لیا ہے ۔ آپ نے فرمایا مال تجھ کو نہیں ملے گا ، کیونکہ اگر تو سچا ہے تو مال کا بدلہ ہے جو اس کی فرج تجھ پر حلال ہوگئی اور اگر تو جھوٹا ہے تو مال اور دور ہوگیا ( بلکہ تیرے اوپر اور وبال ہوا جھوٹ کا ) ۔اور اگر تم نے اس سے جھوٹ بولا تو یہ اس سے زیادہ دور ہے، زہیر نے اپنی روایت میں کہا: سفیان نے ہمیں سعید بن جبیر سے سنا وہ کہتے ہیں, میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

#3749sahih-muslim · 20

وَحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ وَقَالَ اللَّهُ يَعْلَمُ أَنَّ أَحَدَكُمَا كَاذِبٌ فَهَلْ مِنْكُمَا تَائِبٌ .‏

Ibn 'Umar (رضی اللہ عنہ) said:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ) effected separation between the two members of Banu al-'Ajlan, and said: Allah knows that one of you is a liar. Is there one to repent among you?

Urdu

مجھ سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، ہم سے حماد نے، ایوب کی سند سے، سعید بن جبیر سے, عبداﷲ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے

رسول اﷲ ﷺ نے جدائی کردی بنی عجلان کی جورو اور مرد میں اور فرمایا اﷲ تعالیٰ جانتا ہے تم میں سے کوئی جھوٹا ہے ۔ پھر کیا تم میں سے کوئی توبہ کرتا ہے؟

#3750sahih-muslim · 20

وَحَدَّثَنَاهُ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، قَالَ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ اللِّعَانِ، ‏.‏ فَذَكَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِمِثْلِهِ ‏.‏

Sa'id bin Jubair reported:

I asked Ibn 'Umar (رضی اللہ عنہ) about invoking curse (li'an), and he narrated Similarly from Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).

Urdu

ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے ایوب رضی اللہ عنہ سے سنا, سعید بن جبیر سے روایت ہے کہ

میں نے ابن عمررضی اللہ عنہ سے لعان کو پوچھا تو انہوں نے نقل کیا جناب رسول اﷲ ﷺ سے ایسا ہی جیسے اوپر گزرا ۔

#3751sahih-muslim · 20

وَحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ، بَشَّارٍ - وَاللَّفْظُ لِلْمِسْمَعِيِّ وَابْنِ الْمُثَنَّى - قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذٌ، - وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ - قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ لَمْ يُفَرِّقِ الْمُصْعَبُ بَيْنَ الْمُتَلاَعِنَيْنِ ‏.‏ قَالَ سَعِيدٌ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ‏.‏ فَقَالَ فَرَّقَ نَبِيُّ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَخَوَىْ بَنِي الْعَجْلاَنِ ‏.‏

Sa'id bin Jubair reported:

Mus'ab bin Zubair did not effect separation between the Mutala'inain (invokers of curses). Sa'id said: It was mentioned to 'Abdullah bin Umar (رضی اللہ عنہ) and he said: Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) effected separation between the two members of Banu al-'Ajlan.

Urdu

ہم سے ابو غسان المسمعی، محمد بن المثنی، اور ابن بشار نے بیان کیا - اور یہ قول المسمعی اور ابن المثنیٰ کا ہے - انہوں نے کہا: ہم سے معاذ نے بیان کیا - وہ ابن ہشام ہیں، انہوں نے کہا: میرے والد نے مجھ سے قتادہ کی سند سے، عزیر رضی اللہ عنہ سے کہا, سعید بن جبیر سے روایت ہے

مصعب نے جدائی نہیں کی لعان کرنے والوں میں ۔ میں نے اس کا ذکر کیا عبداﷲ بن عمررضی اللہ عنہ سے ۔ انہوں نے کہا جناب رسول اﷲ ﷺ نے جدائی کردی بنی عجلان کے مرد اور عورت میں ۔

#3752sahih-muslim · 20

وَحَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى، بْنُ يَحْيَى - وَاللَّفْظُ لَهُ - قَالَ قُلْتُ لِمَالِكٍ حَدَّثَكَ نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَجُلاً، لاَعَنَ امْرَأَتَهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَفَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْنَهُمَا وَأَلْحَقَ الْوَلَدَ بِأُمِّهِ قَالَ نَعَمْ.‏

Nafi' reported on the authority of Ibn Umar (رضی اﷲ عنہ):

A person invoked curse on the wife during the lifetime of Allah s Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), so he effected separation between them and traced the lineage of the son to his mother.

Urdu

ہم سے سعید بن منصور اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مالک نے بیان کیا، اور ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا - اور اس کا تلفظ - انہوں نے کہا کہ میں نے کہا مالک کی ایک مفید روایت ہے,عبدﷲ بن عمر رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ

ایک مرد نے لعان لعان کیا رسول اﷲ ﷺ کے زمانے میں پھر آپ نے جدائی کردی دونوں میں اور بچے کا نسب ماں سے لگادیا ۔