Basmalah and invitation to send blessings upon the Prophet

بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Before you continue, kindly recite Darood Sharif.

10 narrations

#4342sahih-muslim · 29

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، - قَالَ يَحْيَى وَحَسِبْتُ قَالَ - وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّهُمَا قَالَا: خَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ، حَتَّى إِذَا كَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَالِكَ، ثُمَّ إِذَا مُحَيِّصَةُ يَجِدُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَبِّرِ الْكُبْرَ فِي السِّنِّ»، فَصَمَتَ، فَتَكَلَّمَ صَاحِبَاهُ، وَتَكَلَّمَ مَعَهُمَا، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَهْلٍ، فَقَالَ لَهُمْ: «أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَكُمْ أَوْ قَاتِلَكُمْ»، قَالُوا: وَكَيْفَ نَحْلِفُ، وَلَمْ نَشْهَدْ؟ قَالَ: «فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا»، قَالُوا: وَكَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى عَقْلَهُ.

Sahl bin Abu Hathma and Rafi' bin Khadij reported 'Abdullah bin Sahl bin Zaid and Muhayyisa bin Mas'ud bin Zaid:

He went out and as they reached Khaibar they were separated. Then Muhayyisa found 'Abdullah bin Sahl having been killed. He buried him, and then came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). They were Huwayyisa bin Mas'ud and 'Abdul-Rahman bin Sahl, and he (the latter one) was the youngest of the people (those three who had come to seek an interview with the Holy Prophet) began to talk before his Companions (had spoken). Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: The eldest one (eldest in regard to age should speak). So he kept quiet, and his companions (Muhayyisa and Huwayyisa) began to speak, and he ('Abdul Rahman) spoke along with them and they narrated to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) the murder of 'Abdullah bin Sahl. Thereupon he said to them: Are you prepared to take fifty oaths so that you may be entitled (to blood-wit) of your companion (or your man who has murdered)? They said: How can we take an oath on a matter which we have not witnessed? He (the Holy Prophet) said: Then the Jews will exonerate themselves by fifty oaths. They said: How can we accept the oaths of people who are unbelievers? When Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw that, he himself paid his blood-wit.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا,لیث نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے بشیر بن یسار سے اور انہوں نے حضرت سہل بن ابی حثمہ اور حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ بن مسعود بن زید ( مدینہ سے ) نکلے یہاں تک کہ

جب خیبر میں پہنچے تو وہاں کسی جگہ الگ الگ ہو گئے ، پھر ( یہ ہوتا ہے کہ ) اچانک محیصہ ، عبداللہ بن سہل کو مقتول پاتے ہیں ۔ انہوں نے اسے دفن کیا ، پھر وہ خود ، حویصہ بن مسعود اور ( مقتول کا حقیقی بھائی ) عبدالرحمن بن سہل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، وہ ( عبدالرحمن ) سب سے کم عمر تھا ، چنانچہ عبدالرحمن اپنے دونوں ساتھیوں سے پہلے بات کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " بڑے کو اس کا مقام دو ، " یعنی عمر میں بڑے کو ، تو وہ خاموش ہو گیا ، اس کے دونوں ساتھیوں نے بات کی اور ان کے ساتھ اس نے بھی بات کی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عبداللہ بن سہل کے قتل کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " کیا تم پچاس قسمیں کھاؤ گے ، پھر اپنے ساتھی ( کے بدلے خون بہا ) ۔ ۔ یا ( فرمایا : ) بدلے میں اپنے قاتل ( سے دیت یا قصاص لینے ) ۔ ۔ کے حقدار بنو گے؟ " انہوں نے جواب دیا : ہم قسمیں کیسے کھائیں جبکہ ہم نے دیکھا نہیں؟ آپ نے فرمایا : " تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تمہیں ( ان کے خلاف تمہارے مطالبے کے حق سے ) الگ کر دیں گے انہوں نے کہا : ہم کافر لوگوں کی قسمیں کیونکر قبول کریں؟ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ صورت حال دیکھی آپ نے ( اپنی طرف سے ) اس کی دیت ادا کی.

#4343sahih-muslim · 29

وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، انْطَلَقَا قِبَلَ خَيْبَرَ، فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ، فَجَاءَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَتَكَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ، وَهُوَ أَصْغَرُ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَبِّرِ الْكُبْرَ»، أَوْ قَالَ: «لِيَبْدَأِ الْأَكْبَرُ»، فَتَكَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْكُمْ عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ، فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ»، قَالُوا: أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ، كَيْفَ نَحْلِفُ؟ قَالَ: «فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، قَوْمٌ كُفَّارٌ؟ قَالَ: فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ، قَالَ سَهْلٌ: فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ رَكْضَةً بِرِجْلِهَا، قَالَ حَمَّادٌ: هَذَا أَوْ نَحْوَهُ.

Sahl bin Abu Hathma and Rafi' bin Khadij reported:

Muhayyisa bin Mas'ud and 'Abdullah bin Sahl went towards Khaibar and they separated near the palm-trees. 'Abdullah bin Sahl was killed. They accused the Jews (for this act). And there came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) his brother (the brother of the slain person) 'Abdul-Rahman and his cousins Huwayyisa and Muhayyisa; and 'Abdul-Rahman talked to him about the matter pertaining to (the murder of) his brother, and he was the youngest among them. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: Show regard for the greatness of the old, or he said: Let the eldest begin speaking. Then they (Huwayyisa and Muhayyisa) spoke about the matter of their companion (murder of their cousin, 'Abdullah bin Sahl). Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Let fifty (persons) among you take oath for levelling the charge (of murder) against a person amongst them, and he would be surrendered to you. They said: We have not witnessed this matter ourselves. How can we then take oath? He (the Holy Prophet ﷺ) said: The Jews will exonerate themselves by the oaths of fifty of them. They said: Messenger of Allah ﷺ, they are non-believing people. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) paid the blood wit for him. Sahl said: As one day I entered the fold a she-camel amongst those camels hit me with its leg.

Urdu

عبید اللہ بن عمر القواریری نے مجھ سے کہا, حماد بن زید نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے بشیر بن یسار سے ، انہوں نے سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج سے روایت کی کہ

محیصہ بن مسعود اور عبداللہ بن سہل خیبر کی طرف گئے اور ( وہاں ) کسی نخلستان میں الگ الگ ہو گئے ، عبداللہ بن سہل کو قتل کر دیا گیا تو ان لوگوں نے یہود پر الزام عائد کیا ، چنانچہ ان کے بھائی عبدالرحمان اور دو حویصہ اور محیصہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ عبدالرحمان نے اپنے بھائی کے معاملے میں بات کی ، وہ ان سب میں کم عمر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بڑے کو بڑا بناؤ "" یا فرمایا : "" سب سے بڑا ( بات کا ) آغاز کرے ۔ "" ان دونوں نے اپنے ساتھی کے معاملے میں گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم میں سے پچاس آدمی ان میں سے ایک آدمی پر قسمیں کھائیں گے تو وہ اپنی رسی سمیت ( جس میں وہ بندھا ہو گا ) تمہارے حوالے کر دیا جائے گا؟ "" انہوں نے کہا : یہ ایسا معاملہ ہے جو ہم نے دیکھا نہیں ، ہم کیسے حلف اٹھائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو یہود اپنے پچاس آدمیوں کی قسموں سے تم کو ( تمہارے دعوے کے استحقاق سے ) الگ کر دیں گے ۔ "" انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ( وہ تو ) کافر لوگ ہیں ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی دیت اپنی طرف سے ادا کر دی ۔ سہل نے کہا : ایک دن میں ان کے باڑے میں گیا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات ماری ۔ حماد نے کہا : یہ یا اس کی طرح ( بات کہی.

#4344sahih-muslim · 29

وحَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِهِ: فَرَكَضَتْنِي نَاقَةٌ.

A similar report (as no. 4343) was narrated from Sahl bin Abu Hathma from the prophet ﷺ and in his Hadith he said:

The Messenger of Allah ﷺ paid the blood money himself." but he did not say in his Hadith "A she-camel kicked me.

Urdu

ہم سے القواری نے بیان کیا، ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، بشر بن مفضل نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے بشیر بن یسار سے ، انہوں نے سہل بن ابی حثمہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کی ، اور انہوں نے اپنی حدیث میں کہا

تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت دے دی اور انہوں نے اپنی حدیث میں یہ نہیں کہا : مجھے ایک اونٹنی نے لات مار دی.

#4345sahih-muslim · 29

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ.

This hadith has been narrated on the authority of Sahl bin Abu Hathma through another chain of transmitters.

Urdu

عمرو الناقد نے ہمیں بتایا,سفیان بن عیینہ اور عبدالوہاب ثقفی نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے بشیر بن یسار سے اور انہوں نے سہل بن ابی حثمہ سے انہی کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی.

#4346sahih-muslim · 29

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ، ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ، وَأَهْلُهَا يَهُودُ، فَتَفَرَّقَا لِحَاجَتِهِمَا، فَقُتِلَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلٍ، فَوُجِدَ فِي شَرَبَةٍ مَقْتُولًا، فَدَفَنَهُ صَاحِبُهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ، فَمَشَى أَخُو الْمَقْتُولِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةُ، وَحُوَيِّصَةُ، فَذَكَرُوا لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَ عَبْدِ اللهِ وَحَيْثُ قُتِلَ، فَزَعَمَ بُشَيْرٌ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَمَّنْ أَدْرَكَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: «تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا شَهِدْنَا وَلَا حَضَرْنَا، فَزَعَمَ أَنَّهُ قَالَ: «فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ»، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟ فَزَعَمَ بُشَيْرٌ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَهُ مِنْ عِنْدِهِ.

Bushair bin Yasar reported:

'Abdullah bin Sahl bin Zaid and Muhayyisa bin Mas'ud bin Zaid, both of them were Ansar belonging to the tribe of Banu Haritha, set out to Khaibar during the lifetime of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). There was peace during those days and (this place) was inhabited by the Jews. They parted company for their (respective) needs. 'Abdullab bin Sahl was killed, and his dead body was found in a tank. His companion (Muhayyisa) buried him and came to Medina, and the brothers of the slain 'Abd al-Rahman bin Sahl. and Muhayyisa and Huwayyisa told Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) the case of 'Abdullah and the place where he had been murdered. Bushair reported on the authority of one who had seen Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he had said to them: You take fifty oaths and you are entitled to blood-wit of (one) slain among you (or your companion). They said: Messenger of Allah, we neither saw (with our own eyes this murder) nor were we present there. Thereupon (Allah's Messenger is reported to have said): Then the Jews will exonerate themselves by taking fifty oaths. They said: Allah's Messenger, how can we accept the oath of unbelieving people? Bushair said that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) paid the blood-wit himself.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے بیان کیا, سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے بشیر بن یسار سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عبداللہ بن سہل بن زید انصاری اور محیصہ بن مسعود بن زید انصاری ، جن کا تعلق قبیلہ بنو حارثہ سے تھا ، خیبر کی طرف نکلے ، ان دنوں وہاں صلح تھی ، اور وہاں کے باشندے یہودی تھے ، تو وہ دونوں اپنی ضروریات کے پیش نظر الگ الگ ہو گئے ، بعد ازاں عبداللہ بن سہل قتل ہو گئے اور کھجور کے تنے کے ارد گرد بنائے گئے پانی کے ایک گڑھے میں مقتول حالت میں ملے ، ان کے ساتھی نے انہیں دفن کیا ، پھر مدینہ آئے اور مقتول کے بھائی عبدالرحمن بن سہل اور ( چچا زاد ) محیصہ اور حویصہ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ اور ان کو قتل کیے جانے کی صورت حال اور جگہ بتائی ۔ بشیر کا خیال ہے اور وہ ان لوگوں سے حدیث بیان کرتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو پایا کہ آپ نے ان سے فرمایا : " کیا تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے اتل ۔ ۔ یا اپنے ساتھی ۔ ۔ ( سے بدلہ/دیت ) کے حق دار بنو گے؟ " انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! نہ ہم نے دیکھا ، نہ وہاں موجود تھے ۔ ان ( بشیر ) کا خیال ہے کہ آپ نے فرمایا : " تو یہود پچاس قسمیں کھا کر تمہیں ( اپنے دعوے کے استحقاق سے ) الگ کر دیں گے ۔ " انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! ہم کافر لوگوں کی قسمیں کیسے قبول کریں؟ بشیر کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے اس کی دیت ادا فرما دی.

#4347sahih-muslim · 29

وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ انْطَلَقَ هُوَ وَابْنُ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهُ: مُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَى قَوْلِهِ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، قَالَ يَحْيَى، فَحَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْكَ الْفَرَائِضِ بِالْمِرْبَدِ.

Bushair bin Yasar reported:

A person from the Ansar belonging to the tribe of Banu Haritha who was called 'Abdullah bin Sahl bin Zaid set out and the son of his uncle called Muhayyisa bin Mas'ud bin Zaid, the rest of the hadith is the same up to the words: Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) paid the blood-wit himself. Bushair bin Yasar reported that Sahl bin Abu Hathma said: One camel amongst the camels paid as blood-wit kicked me while I was in the (camel) enclosure.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, ہشیم نے یحییٰ بن سعید سے ، انہوں نے بشیر بن یسار سے روایت کی کہ

انصار میں سے بنو حارثہ کا ایک آدمی جسے عبداللہ بن سہل بن زید کہا جاتا تھا اور اس کا چچا زاد بھائی جسے محیصہ بن مسعود بن زید کہا جاتا تھا ، سفر پر روانہ ہوئے ، اور انہوں نے اس قول تک ، لیث کی ( حدیث : 4342 ) کی طرح حدیث بیان کی : "" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا فرما دی ۔ "" یحییٰ نے کہا : مجھے بشیر بن یسار نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے سہل بن ابی حثمہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا : دیت کی ان اونٹنیوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے باڑے میں لات ماری تھی.

#4348sahih-muslim · 29

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ نَفَرًا مِنْهُمُ انْطَلَقُوا إِلَى خَيْبَرَ فَتَفَرَّقُوا فِيهَا، فَوَجَدُوا أَحَدَهُمْ قَتِيلًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ: فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْطِلَ دَمَهُ فَوَدَاهُ مِائَةً مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ.

Bushair bin Yasar al-Ansari reported on the authority of Sahl bin Abu Hathma al-Ansari:

Some men (of his tribe went to Khaibar, and they were separated from one another, and they found one of them slain. The rest of the hadith is the same. And it was said in this connection: Allah's Messenger (may peace be him) did not approve of his blood go waste. He paid blood-wit of one hundred camels of Sadaqa.

Urdu

ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا سعید بن عبید نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں بشیر بن یسار انصاری نے سہل بن ابی حثمہ انصاری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ان کو بتایا کہ

ان ( کے خاندان ) میں سے چند لوگ خیبر کی طرف نکلے اور وہاں الگ الگ ہو گئے ، بعد ازاں انہوں نے اپنے ایک آدمی کو قتل کیا ہوا پایا ۔ ۔ اور انہوں نے ( پوری ) حدیث بیان کی اور اس میں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناپسند کیا کہ اس کے خوب کو رائیگاں قرار دیں ، چنانچہ آپ نے صدقے کے اونٹوں سے سو اونٹ اس کی دیت ادا فرما دی ۔

#4349sahih-muslim · 29

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو لَيْلَى عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ رِجَالٍ مِنْ كُبَرَاءِ قَوْمِهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ، وَمُحَيِّصَةَ، خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ مِنْ جَهْدٍ أَصَابَهُمْ، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ، فَأَخْبَرَ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَهْلٍ قَدْ قُتِلَ وَطُرِحَ فِي عَيْنٍ - أَوْ فَقِيرٍ - فَأَتَى يَهُودَ، فَقَالَ: أَنْتُمْ وَاللهِ قَتَلْتُمُوهُ، قَالُوا: وَاللهِ مَا قَتَلْنَاهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى قَدِمَ عَلَى قَوْمِهِ، فَذَكَرَ لَهُمْ ذَلِكَ، ثُمَّ أَقْبَلَ هُوَ وَأَخُوهُ حُوَيِّصَةُ وَهُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، فَذَهَبَ مُحَيِّصَةُ لِيَتَكَلَّمَ وَهُوَ الَّذِي كَانَ بِخَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمُحَيِّصَةَ: «كَبِّرْ كَبِّرْ»، يُرِيدُ السِّنَّ، فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ، ثُمَّ تَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِمَّا أَنْ يَدُوا صَاحِبَكُمْ، وَإِمَّا أَنْ يُؤْذِنُوا بِحَرْبٍ»، فَكَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِمْ فِي ذَلِكَ، فَكَتَبُوا إِنَّا وَاللهِ مَا قَتَلْنَاهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحُوَيِّصَةَ، وَمُحَيِّصَةَ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ: «أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ؟» قَالُوا: لَا، قَالَ: «فَتَحْلِفُ لَكُمْ يَهُودُ»، قَالُوا: لَيْسُوا بِمُسْلِمِينَ، فَوَادَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ نَاقَةٍ حَتَّى أُدْخِلَتْ عَلَيْهِمِ الدَّارَ، فَقَالَ سَهْلٌ: فَلَقَدْ رَكَضَتْنِي مِنْهَا نَاقَةٌ حَمْرَاءُ.

Abu Laila 'Abdullah bin 'Abdul-Rahman bin Sahl reported:

The elderly persons of (the tribe) had informed Sahl bin Abu Hathma that 'Abdullah bin Sahl and Muhayyisa went out to Khaibar under some distress which had afflicted them. Muhayyisa came and informed that Abdutlah bin Sahl had been killed, and (his dead body) had been thrown in a well or in a ditch. He came to the Jews and said: By Allah, it is you who have killed him. They said: By Allah, we have not killed him. He then came to his people, and made mention of that to them. Then came he and his brother Huwayyisa, and he was older than he, and 'Abdul-Rahman bin Sahl. Then Muhayyisa went to speak, and it was he who had accompanied ('Abdullah) to Khaibar, whereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to Muhayyisa: Observe greatness of the great (he meant the seniority of age). Then Huwayyisa spoke and then Muhayyisa also spoke. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: They should either pay blood-wit for your companion, or be prepared for war. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) wrote about it to them (to the Jews). They wrote: Verily, by Allah, we have not killed him. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to Huwayyisa and Muhayyisa and Abdul-Rahman: Are you prepared to take oath in order to entitle yourselves for the blood-wit of your companion? They said: No. He (the Holy Prophet ﷺ) said: Then the Jews will take oath (of their innocence). They said: They are not Muslims. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), however, himself paid the blood-wit to them and sent to them one hundred camels until they entered into their houses, Sahl said: One red she-camel among them kicked me.

Urdu

مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے مالک بن انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا, ابولیلیٰ بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن سہل ( بن زید انصاری ) نے سہل بن ابی حثمہ ( انصاری ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے

انہیں ان کی قوم کے بڑی عمر کے لوگوں سے خبر دی کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ اپنی تنگدستی کی بنا پر جو انہیں لاحق ہو گئی تھی ، ( تجارت وغیرہ کے لیے ) خیبر کی طرف نکلے ، بعد ازاں محیصہ آئے اور بتایا کہ عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے ہیں اور انہیں کسی چشمے یا پانی کے کچے کنویں ( فقیر ) میں پھینک دیا گیا ، چنانچہ وہ یہود کے پاس آئے اور کہا : اللہ کی قسم! تم لوگوں نے ہی انہیں قتل کیا ہے ۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ، پھر وہ آئے حتی کہ اپنی قوم کے پاس پہنچے اور ان کو یہ بات بتائی ، پھر وہ خود ، ان کے بھائی حویصہ ، اور وہ ان سے بڑے تھے ، اور عبدالرحمن بن سہل ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ) آئے ، محیصہ نے گفتگو شروع کی اور وہی خیبر میں موجود تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محیصہ سے فرمایا : "" بڑے کو بات کرنے دو ، بڑے کو موقع دو "" آپ کی مراد عمر ( میں بڑے ) سے تھی ، تو حویصہ نے بات کی ، اس کے بعد محیصہ نے بات کی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یا وہ تمہارے ساتھی کی دیت دیں یا پھر جنگ کا اعلان کریں ۔ "" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں ان کی طرف خط لکھا ، تو انہوں نے ( جوابا ) لکھا : اللہ کی قسم! ہم نے انہیں قتل نہیں کیا ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حویصہ ، محیصہ اور عبدالرحمن سے فرمایا : "" کیا تم قسم کھا کر اپنے ساتھی کے خون ( کا بدلہ لینے ) کے حقدار بنو گے؟ "" انہوں نے کہا : نہیں ۔ آپ نے پوچھا : "" تو تمہارے سامنے یہود قسمیں کھائیں؟ "" انہوں نے جواب دیا : وہ مسلمان نہیں ہیں ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کر دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سو اونٹنیاں ان کی طرف روانہ کیں حتی کہ ان کے گھر ( باڑے ) پہنچا دی گئیں ۔ سہل نے کہا : ان میں سے ایک سرخ اونٹنی نے مجھے لات ماری تھی.

#4350sahih-muslim · 29

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: حَدَّثَنَا، وقَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْأَنْصَارِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَرَّ الْقَسَامَةَ عَلَى مَا كَانَتْ عَلَيْهِ فِي الْجَاهِلِيَّةِ.

Sulaiman bin Yasar, the freed slave of Maimuna, the wife of Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌), narrated from one of the Ansari Companions of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) retained (the practice) of Qasama as it was in the pre-Islamic days.

Urdu

مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، اور مجھ سے ہرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا: ہم سے انہوں نے بیان کیا، اور ہرملہ نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا, یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام سلیمان بن یسار نے انصار میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی سے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسامہ کو اسی صورت پر برقرار رکھا جس پر وہ جاہلیت میں تھی.

#4351sahih-muslim · 29

وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ، وَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ نَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْهُ عَلَى الْيَهُودِ.

This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab with the same chain of transmitters but with this addition:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) decided (according to Qasama) between the persons of Ansar (and yours) about a slain (Muslim) for which they made claim against the Jews.

Urdu

ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ابن جریج نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( قسامہ ) کے ذریعے انصار کے لوگوں کے مابین ایک مقتول کا فیصلہ کیا جس کا دعویٰ انہوں نے یہود پر کیا تھا.